ایسی تنہائی

 

ایسے اجاڑ سفر میں کون میرے دکھ بانٹنے کو میرے ساتھ چلے گا۔ یہاں تو ہوا کے سہمے ہوئے جھونکے بھی دبے پاؤں اترتے ہیں اور چپ چاپ گزر جاتے ہیں۔ یہاں کون میرے مجروح جذبوں پر دلاسوں کے پھائے رکھے، کس میں اتنا حوصلہ ہے کہ میری روداد سنے؟ کوئی نہیں۔ سوائے میری سخت جان ’’تنہائی‘‘ کے۔ تنہائی چونکہ میری خالی ہتھیلیوں پر قسمت کی لکیروں کی طرح ثبت ہے، میرے رت جگے کی غمگسار اور میری تھکن سے چور آنکھوں میں نیند کی طرح سما گئی ہے۔ ہوا مجھ سے برہم، سناٹا میرے تعاقب میں، مصیبتیں مجھ سے گریزاں اور شامیں میری آنکھوں پر اندھیرا باندھنے کے لئے منتظر، اب کوئی چنگاری، کوئی کرن، کوئی آنسو یا پھر کوئی آس ہی مجھے دیر تک جینے کا حوصلہ دے سکتی ہے۔

 

(محسن نقوی کی کتاب ’’طلوع اشک‘‘ سے اقتباس)