ایک دن ایک اداکارہ نے مجھ سے پوچھا۔ ’’اس دنیا کی رنگارنگی اور خوبصورتی کس کے وجود سے ہے؟‘‘

یہ سوال کرکے وہ جواب بن کر سامنے بیٹھ گئی، لیکن جب میں نے کہا ’’شیطان کے دم قدم سےِِ‘‘ تو اس نے سر سے لے کر پاؤں تک مجھے یوں دیکھا جیسے میں نے کہہ دیا ہو ’’میری وجہ سے۔‘‘

شیطان سے میرا پہلی بار باقاعدہ تعارف اس دن ہوا جب میری ملاقات اپنے گاؤں کے مولوی صاحب سے ہوئی۔ میں نے ان کی کسی بات پر اختلاف کیا تو انہوں نے میرے والد صاحب سے کہا۔ ’’آپ کا لڑکا بڑا شیطان ہوگیا ہے۔‘‘ انہوں نے ٹھیک ہی کہا تھا کیونکہ اس دنیا میں پہلی بار اختلاف رائے شیطان ہی نے کیا ۔۔۔۔۔۔۔ یوں وہ اس دنیا میں جمہوریت کا بانی ہے۔۔۔۔۔۔۔ شیطان مرد کے دماغ میں رہتا ہے اور عورت کے دل میں۔۔۔۔۔۔۔ ہر آدمی شیطان سے پناہ مانگتا ہے اور کئی لوگوں کو وہ پناہ دے بھی دیتا ہے۔ شیطان اور فرشتے میں یہ فرق ہے کہ شیطان بننے کے لئے پہلے فرشتہ ہونا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔ جہاں تک شیطان کو آدم کو سجدہ نہ کرنے کا تعلق ہے، وہ سب اس کا پبلسٹی اسٹنٹ تھا جس کی وجہ سے اسے شہرت ملی، کہ جہاں جہاں رحمان کا ذکر آتا ہے وہاں اس کا ذکر ضرور ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ ورنہ اس آدم کو تو وہ سو سو سجدے کرنے کے لئے آج بھی تیار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں شیطان سے کبھی نہیں گھبرایا لیکن برا آدمی دیکھ کر ہی ڈر جاتا ہوں کیونکہ شیطان برا فرشتہ ہے، برا انسان نہیں۔

 

(’’شیطانیاں‘‘ از ڈاکٹر یونس بٹ سے اقتباس)