خود شناسی

 

چڑیا کا بچہ جو ابھی ابھی گھونسلے سے نکلا ہے۔

ہنوز اڑنانہیں جانتا اور ڈرتا ہے۔

ماں کی متواتر اکساہٹ کے باوجود اسے اڑنے کی جرأت نہیں ہوتی۔

رفتہ رفتہ اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ ایک دن اپنی تمام قوتوں کو مجتمع کرکے اڑتا اور فضائے ناپیدا کنار میں غائب ہوجاتا ہے۔

پہلی ہچکچاہٹ اور بے بسی کے مقابلے میں اس کی یہ چستی اور آسمان پیمائی حیرت ناک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جونہی اس کی سوئی ہوئی خود شناسی جاگ اٹھی اور اسے اس حقیقت کا عرفان حاصل ہوگیا کہ ’’میں اڑنے والا پرندہ ہوں‘‘ اچانک قالب ہیجان کی ہر چیز ازسر نو جاندار بن گئی۔ بے طاقتی سے توانائی، غفلت سے بیداری، بے پر و بالی سے بلند پروازی اور موت سے زندگی کا پورا انقلاب چشم زدن کے اندر ہوگیا۔

غور کیجئے تو یہی ایک چشم زدن کا وقفہ زندگی کے پورے افسانے کا خلاصہ ہے۔

 

(’’غبارِ خاطر‘‘ از مولانا ابوالکلام آزاد سے اقتباس)