ٹائیں ٹائیں فش

 

میرا نام کمال احمد عرف کمالا ۔۔۔۔۔۔۔۔ عرف کالو، عرف کاما، عرف ڈنگر، عرف کھوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ موخر الذکر کچھ ’’عرفیت‘‘ ابا کی عطا کردہ ہیں، باقی میں نے اپنی محنت سے حاصل کی ہیں۔ میں ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں اور وہ بھی میرے اکلوتے اماں ابا ہیں۔ میں نے زندگی میں آج تک ان کو کسی مسئلے پر متفق ہوتے نہیں دیکھا۔ ان کے تعلقات کی نوعیت بالکل بش اور اسامہ جیسی ہے۔ تاہم ابھی تک کنفرم نہیں ہوسکا کہ دونوں میں سے ’’اسامہ‘‘ کون ہے۔ اماں ابا کبھی کبھار اتنی خونخوار لڑائی لڑتے ہیں کہ دیکھنے والے کو خوامخواہ مزا آنے لگتا ہے۔ میں نے خود کئی دفعہ ان کی لڑائی کو ٹی وی ریسلنگ سے بہتر قرار پایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دونوں کم از کم  نورا کشتی تو نہیں لڑتے ۔۔۔۔۔۔ !! ابا چونکہ اونچا سنتے ہیں اس لئے اکثر اماں کی بھڑاس ان کے کانوں تک نہیں پہنچ پاتی۔

بزرگوں سے روایت ہے کہ اماں ابا کی لڑائی کا آغاز شادی کے دوسرے روز ہی ہوگیا تھا جب اماں نے منہ دکھائی میں دی ہوئی ابا کی سونے کی انگوٹھی کو چیک کرایا تو وہ دو نمبر نکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اماں نے ابا سے شکوہ کیا تو وہ قرآن اٹھانے پر تیار ہوگئے کہ انگوٹھی دو نمبر نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ احتیاطاً انگوٹھی کو دوبارہ چیک کرایا گیا تو ابا کا کہا سچ نکلا ۔۔۔۔۔۔۔ انگوٹھی واقعی دو نمبر نہیں بلکہ تین نمبر تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اماں نے غصے سے انگوٹھی اتار کر ابا کے ماتھے پر ایسی تاک کر ماری کہ وہاں سیاہ نشان بن گیا۔ بزرگوں کی بات پر اس لئے بھی یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ نشان ابا کے ماتھے پر تاحال موجود ہے، تاہم ابا اسے بزورِ دلائل ’’محراب‘‘ کہتے ہیں۔

 

(گل نوخیز اختر کے مزاحیہ ناول ’’ٹائیں ٹائیں فش‘‘ سے اقتباس)