دلاور فگار

 

آج 8 جولائی اردو دنیا کے شہنشاہ ظرافت دلاور فگار کا یوم پیدائش ہے ۔

   دلاور حسین المتخلص فگار 8 جولائی  1929 کو ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش (یو پی) کے مشہور و معروف مردم خیز قصبے بدایوں میں پیدا ہوئے، جس کی مٹی نے بڑی بڑی نامی گرامی شخصیات کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں بھی فگار صاحب کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی مگر ان کی شہرت کے ڈنکے اس سے بہت پہلے پورے ہندوستان بلکہ پوری اردو دنیا میں خوب زور و شور کے ساتھ بج چکے تھے ۔

مزاح نگاری اور مزاح گوئی بڑا جان جوکھوں کا کام ہے ۔ فگار صاحب کا سب سے بڑا کمال یہی تھا کہ وہ کبھی ڈگمگائے نہیں۔ ان کا ایک اور بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے بڑے بڑے مسائل کی ایک انتہائی ماہر سرجن کی طرح سرجری کی ہے اور طنز و مزاح کے نشتروں کو نہایت احتیاط اور چابکدستی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ ان کے کلام کی آفاقیت اور ہمہ گیری ان کی مزاح نگاری کا ایک نمایاں وصف ہے۔ ان کے اشعار آج بھی اسی طرح تروتازہ اور حسب حال ہیں۔ عام آدمی کی روز مرہ زندگی کے مسائل کو اپنے منفرد و دلچپ انداز میں پیش کرنے پر انھیں عبور حاصل تھا۔

فگار صاحب نے شعر گوئی کا آغاز 14 برس کی عمر میں 1942 میں کیا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے قصبے بدایوں ہی میں حاصل کی اور بعدازاں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (اکنامکس) کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔ اپنے کیرئیر کا آغاز انھوں نے ہندوستان میں درس و تدریس سے کیا اور ہجرت کرکے کراچی آنے کے بعد عبداﷲ ہارون کالج میں بحیثیت رہے۔

فگار صاحب کو صرف شاعری پر ہی نہیں نثر پر بھی عبور حاصل تھا مگر ان کی شہر ت ایک مزاح گو شاعر کے طور پر ہی ہوئی اور پھر وہ وقت بھی آیا جب انھیں ’’شہنشاہ ظرافت‘‘ اور ’’اکبر ثانی‘‘ جیسے خطابات سے نوازا گیا۔

اگرچہ دلاور فگار صاحب کی وجہ شہرت ان کی مزاحیہ شاعری ہی قرار پائی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ہمہ جہت قادر الکلام سخنور تھے ۔ دراصل ان کی شخصیت اتنی ہمہ گیر اور پہلو دار تھی کہ ایک مختصر سے کالم میں اس کا احاطہ کرنا ناممکن کی جستجو کے مترادف ہوگا۔ ایک مرتبہ کراچی آرٹس کونسل کے ایک ادبی اجتماع میں انھوں نے نہایت دلچسپ انداز میں اپنے تخیلاتی آسمانی سفر کا قصہ سنایا تھا جس کے دوران فرشتوں نے انھیں جنت میں داخل ہونے سے محض اس بنا پر روک دیا تھا کہ وہ مقررہ وقت سے قبل وہاں پہنچ گئے تھے، فرشتوں کا کہنا تھا کہ وہ واپس جائیں اور پانچ سال بعد وہاں آئیں۔ یہ 31 جنوری 1993 کا واقعہ تھا۔ اس کے تقریباً پانچ سال بعد یعنی 25 جنوری 1998 فگار صاحب نے رخت سفر باندھا اور ملک عدم سدھار گئے۔