قدرِ مشترک

 

ٹوکیو میں ہمارے دوست امان اللہ سردار جب بھی بازار میں اپنی گاڑی کھڑی کرکے خریداری کو نکلتے تھے، ہم ان کو یاد دلاتے تھے کہ بھائی شیشے تو چڑھادو اور لاک تو کردو۔ وہ مسکرا کر ٹال جاتے تھے۔ ایک دن ہم نے کہا۔ ’’آپ ہمارے مفید اور مفت مشورے پر کان کیوں نہیں دھرتے۔ کسی روز آپ کو یہ گاڑی ٹوکیو کے فیڈرل بی ایریا کے کسی دور افتادہ علاقے میں یوں ملے گی کہ جسم ہی جسم ہوگا، روح نہیں ہوگی۔ باڈی ہوگی، انجن غائب، پرزے غائب۔‘‘ بولے ’’نہیں بھائی یہ ٹوکیو ہے، ایسا اندھیر نہیں۔‘‘ اب ہم ٹوکیو کے ہوائی اڈے پر اترے تو نوٹس لگا پایا۔

’’صاحبان اپنے مال کو یک دم اپنے ہاتھ سے جدا نہ ہونے دیجئے۔ چوریاں بہت ہونے لگی ہیں۔ منجانب ایسوسی ایشن برائے انسداد جرم ٹوکیو ایئرپورٹ۔‘‘

ہمیں تھوڑا اطمینان ہوا کہ ہاں ابھی اس ملک میں ایشیا کی خوبو باقی ہے۔ کوئی نہ کوئی چیز ہم میں ان میں مشترک ہے ورنہ تو ہم یہ سوچ کر مایوس اور دل گرفتہ ہوگئے تھے کہ یہ نام کے ایشیائی ہیں۔

 

(’’نگری نگری پھرا مسافر‘‘ از ابن انشا سے اقتباس)