احمد ندیم قاسمی

 

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاﺅں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاﺅں گا

 

آج 10  جولائی معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگار احمد ندیم قاسمی کی برسی ہے۔

احمد ندیم قاسمی20 نومبر 1916 کو مغربی پنجاب کی وادی سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔ اصل نام احمد شاہ تھا اور اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ندیم ان کا تخلص تھا۔ احمد ندیم قاسمی کی شخصیت ہشت پہل تھی۔  وہ ایک جانب جہاں ادیب ،افسانہ نگار ، ڈرامہ نگار ، صحافی ،کالم نگار تھے  وہیں دوسری جانب صاحب طرز شاعر بھی تھے اور وہ خود کہتے تھے کہ ان کا پہلا عشق شاعری ہے لیکن انہیں نظم و نثر دونوں پر زبردست عبور  حاصل تھا ۔ان کا تعلق خانقاہ سے تھا ۔ اسی لئے ان کے مزاج میں قلندری اورصوفیت تھی ۔ انہوں نے اٹک میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور صادق ایجرٹن کالج بہاولپور سے بی اے کیا۔ انہوں نے پہلا شعر 1927 میں کہا تھا اور ان کی اولیں نظم 1931 میں ’’سیاست‘‘ لاہور میں شائع ہوئی تھی،  جو انہوں نے مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر کہی تھی ۔

 ایک جانب قاسمی کے ہم عصروں میں جہاں سعادت حسن منٹو ، راجیندر سنگھ بیدی ، کرشن چندر ، عصمت چغتائی اور غلام عباس جیسے افسانہ نگار تھے تو دوسری جانب شاعروں میں ان کے ہم عصر میرا جی ، ن م راشد ، فیض احمد فیض، حفیظ جالندھری ، جوش ملیح آبادی اور علی سردار جعفری جیسے شاعر اور قاسمی صاحب نے ان دیو قامت قلمکاروں کے درمیان بطور افسانہ نگار اور بحیثیت شاعر اپنی شناخت قائم کی ۔ ان کے متعدد اشعار زبان زد خاص و عام ہیں اور انہیں ضرب المثل کی حیثیت حاصل ہے۔

 

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

 

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاﺅں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاﺅں گا

 

احمد ندیم قاسمی نے غزلیں بھی کہیں اور نظموں پر بھی طبع آزمائی کی ۔ ایک جانب جہاں ان کی غزلیں دامن دل کو کھینچتی ہیں وہیں دوسری جانب ان کی نظمیں بھی قاری کو دیر تک سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔

احمد ندیم قاسمی نے 90 سال کی عمر پائی اور مسلسل قلم کی خدمت کرتے رہے ۔ انہوں نے 50سے بھی زائد کتابیں یاد گار چھوڑیں ۔ ان کے 17 افسانوی مجموعے اور 6شعری مجموعے شائع ہوئے ۔ تنقید و تحقیق کی تین کتابیں چھپیں اور ترتیب و ترجمہ کے تحت بھی ان کی چھ کتابیں منظر عام پر آئیں ۔ بچوں کے لئے بھی انہوں نے کافی کچھ لکھا اور ان کا انتخاب تین کتابوں کی شکل میں شائع ہوا ۔ ان کے افسانو ں کے ترجمے دنیا بھر کی ایک درجن سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو کر شائع ہوئے ۔

احمد ندیم قاسمی کی ادبی خدمات کے سلسلے میں 1963 میں ان کے شعری مجموعے ’’دشتِ وفا‘‘ 1976 میں شعری مجموعے ’’محیط‘‘ اور 1979 میں مجموعہ کلام ’’دوام‘‘ کے لئے آدم جی ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے علاوہ 1968 میں ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ کا سول اعزاز اور حکومت پاکستان کے ’’ستارہ امتیاز‘‘ جیسے وقیع اعزاز سے نوازا گیا۔

ان کے ادب نے کئی نسلوں پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں اور ان کے ادبی رسالہ ” فنون “ نے کئی نسلوں کی پرورش کی تھی۔

احمد ندیم قاسمی 10 جولائی 2006 کو لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں آسودہ خاک ہوئے۔

بھارتی فلمی دنیا کے مشہور شاعر گلزار نے اپنے ادبی ”بابا “ کے انتقا ل پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے نظم لکھی جس کا عنوان ’’بابا‘‘ تھا


حواس کا جہان ساتھ لے گیا
وہ سارے بادبان ساتھ لے گیا
بتائیں کیا ، وہ آفتاب تھا کوئی
گیا تو آسمان ساتھ لے گیا
کتاب بند کی اور اٹھ کے چل دیا
تمام داستان ساتھ لے گیا
میں سجدے سے اٹھا تو کوئی بھی نہ تھا
وہ پاﺅں کے نشان ساتھ لے گیا