شک

 

شین سے شک ہوتا ہے پگلے۔۔۔۔۔۔۔۔ شک عشق کو مہمیز کرتا ہے، اسے ایڑ لگاتا ہے۔ انسان جس سے عشق کرتا ہے اس کے بارے میں ہر پل، ہر لمحہ شک کا شکار رہتا ہے۔ کبھی اسے شک چین نہیں لینے دیتا کہ اس کا محبوب کسی اور کی طرف مائل نہ ہوجائے، تو کبھی یہ شک نیندیں اڑا دیتا ہے کہ کوئی اور اس کے محبوب پر کمند نہ ڈال رہا ہو۔ کبھی یہ شک بے قراری کی آگ کو ہوا دینے لگتا ہے کہ اس کے عشق میں کوئی کمی نہ رہ جائے کہ اس کا محبوب ناراض ہوجائے تو کبھی یہ شک کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کردیتا ہے کہ کسی اور کے جذبات کی شدت میرے محبوب کو متاثر نہ کرلے۔ شک ۔۔۔۔۔ شک کے ناگ جب انسان کو ڈسنے لگتے ہیں تو وہ درد کی اذیت سے بے چین ہوجاتا ہے۔ شک اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے محبوب کے آس پاس رہے، اس کے ساتھ ساتھ رہے، اس پر کسی دوسرے کا سایہ نہ پڑنے دے۔ اسے دل میں یوں چھپا لے کہ کسی کی اس پر نظر نہ پڑے۔ کھودینے کا یہ خوف اسے کچھ پالینے کی منزل کی طرف ہانک دیتا ہے۔ جتنی شدت سے یہ شک کا خوف اس پر حملہ آور ہوتا ہے اتنی جلدی وہ عشق کی دوسری منزل طے کرلیتا ہے۔ قیس کو یہ شک لیلٰی کے کتے کو چومنے پر مائل کرلیتا ہے کہ وہ اس کتے سے بھی پیار کرتی ہے۔ یہ شک رانجھے کو کان پھڑوا کر جوگی بنادیتا ہے تاکہ وہ کسی اور کو حالت ہوش میں ویسے دیکھ ہی نہ سکے جیسے ہیر کو دیکھتا تھا۔ یہ شک مہینوال کو ران کے کباب بنا کر سوہنی کے حضور پیش کرنے پر آمادہ کرلیتا ہے اور یہ شک ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ شک ہی ہے جو اپنے پر پھڑپھڑاتا ہے تو ساری ساری رات سونے نہیں دیتا۔ انسان کروٹیں بدلتے بدلتے چپکے چپکے سے اٹھتا ہے، یخ بستہ پانی سے وضو کرتا ہے اور محبوب حقیقی کی آرزو میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ میرے علاوہ اور کس کس کی طرف مائل بہ لطف ہے؟

(سرفراز احمد راہی کے ناول ’’عشق کا قاف‘‘ سے اقتباس)