ساغر صدیقی

 

آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں

لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

 

آج 19 جولائی اردو ادب کے عظیم شاعر ساغر صدیقی کی برسی ہے۔ ساغر صدیقی 14 اگست 1928 کو بھارت کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے،  ان کا اصل نام محمد اختر شاہ جبکہ شروع میں تخلص ناصر مجازی تھا لیکن جلد ہی اسے چھوڑ کر ساغر صدیقی ہوگئے۔   ساغر کا بچپن انتہائی نامساعد حالات میں گزرا اور امرتسر میں کنگھیاں بنانے کا کام بھی کیا۔ حبیب حسن خان کے گھر پر ہی اردو زبان کی تعلیم حاصل کی۔

ساغر کی اصل شہرت 1944 میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ساغر صدیقی امرتسر سے لاہور منتقل ہوگئے۔ ساغر صدیقی نے عشق مجازی، عشق حقیقی، جدوجہد، لگن اور آوارگی کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔  ان کا کلام مختلف پرچوں میں چھپنے لگا۔ فلم بنانے والوں نے ان سے گیتوں کی فرمائش کی اور ان کے لکھے ہوئے گانے بہت مقبول ہوئے۔  اس زمانے میں ساغر کے سب سے بڑے سرپرست انور کمال پاشا، ابن حکیم احمد شجاع مرحوم تھے۔

برے دوستوں کی صحبت نے ساغر کو نشے کا عادی بنادیا تھا۔ یہ لوگ انہیں چرس اور مارفیا کے ٹیکے کی شیشیاں دیتے اور ان سے غزلیں لے جاتے اور اپنے نام سے پڑھتے اور چھپواتے۔ ساغر صدیقی کے آخری ایام داتا دربار کے سامنے فٹ پاتھ پر گزرے اور ان کی وفات بھی اسی فٹ پاتھ پر ہوئی۔ 19 جولائی 1974 صبح کے وقت ساغر صدیقی کی لاش سڑک کے کنارے ملی اور دوستوں نے لے جاکر اسے میانی صاحب کے قبرستان میں دفن کردیا۔

ان کے شعری مجموعوں میں ’’غم بہار‘‘ ، ’’زہر آرزو‘‘ ، لوح جنوں‘‘ ، شب آگہی‘‘ اور ’’سبز گنبد‘‘ شامل ہیں۔

یاد رکھنا ہماری تربت کو

قرض ہے تم پہ چار پھولوں کا

۔ ساغر اردو کے ان چند شاعروں میں سے ہیں جن کے شعر تو لوگوں کو یاد رہے لیکن ان شعروں کو کس نے تخلیق کیا یہ بہت کم لوگوں کو یاد رہا۔ ساغر کے زیادہ تر حالات زندگی پر ایک پردہ ہے۔ ساغر کی اپنی زندگی کی کہانی بھی ایک بھلا دیئے گئے شخص کی کہانی ہے یہاں تک کہ اس نے خود اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایک خود فراموشی کے عالم میں بسر کیا۔

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے 
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں