غلط فہمی

 

یہ اس دن کی بات ہے جب میں دو روپے کا دہی لینے مجید کی دوکان پر جارہا تھا۔ ساری گلی بچوں سے بھری ہوئی تھی۔ صبح کا وقت تھا اور صبح کے وقت غریبوں کے گھروں کی گلیاں اور نالیاں بچوں سے بھری ہوتی ہیں۔ میرا دھیان اوپر کی طرف تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ گلی کے درمیان میں سے کسی پتنگ کی ڈور گذرتی دکھائی دے رہی تھی۔ ڈور میں خاصا تناؤ تھا جس سے لگ رہا تھا کھ پتنگ یا تو کہیں پھنسی ہوئی ہے یا پھر دوسری طرف سے بھی ڈور کسی کے قبضے میں ہے ۔۔۔۔۔۔ اچانک ڈور ڈھیلی پڑگئی اور نیچے کی طرف آنے لگے ۔۔۔۔۔۔ یقیناً کسی ایک طرف کا سرا ٹوٹ گیا تھا۔ پتنگ لوٹنا میرے لئے بس لوٹنے سے بھی زیادہ مسرت بخش عمل ہوتا ہے۔ ڈور ڈھیلی پڑتی دیکھ کر مجھے سب کچھ بھول گیا ۔۔۔۔۔۔ میں نے خالی پیالہ ایک طرف رکھا اور اچھل کر ڈور کی طرف ہاتھ مارا۔ محلے کے اور بھی کئی لمبے لڑکے اس کارِ خیر میں شریک تھے تاہم میں ذرا زیادہ قریب تھا۔ ڈور تو میں نے پکڑ لی لیکن دوسرے لڑکوں نے باقی پتنگ کا ستیا ناس کرکے رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔ ایک عجیب سے دھماچوکڑی مچ گئی تھی۔ سب لڑکے ایک دوسرے کے اوپر گرے ہوئے تھے۔۔۔۔ میرا تو دم گھٹنا شروع ہوگیا تھا ۔۔۔۔ میں نے چیخ و پکار شروع کردی۔ ’’ہائے مرگیا ۔۔۔۔ ہائے میرا سانس ۔۔۔۔‘‘

میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میری آواز کے جواب میں فوراً ہی تمام لڑکے اٹھ کھڑے ہوئے اور ادھر ادھر ہوگئے ۔۔۔۔۔ پہلی بار اپنی اتنی عزت ہوتی دیکھ کر میری آنکھوں کے آگے اندھیرا آگیا۔ ’’کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا ۔۔۔۔۔؟‘‘ میں نے سوچا۔ اس سے پہلے کہ میں اپنے دل سے مزید کوئی رائے طلب کرتا، ایک شور سا اٹھا اور ذرا سی دیر میں ساری گلی خالی ہوگئی۔ میں ڈرگیا ۔۔۔۔ کہیں سامنے والے ملک صاحب کا کتا تو نہیں کھل گیا ۔۔۔۔ عموماً اس کے کھل جانے پر ہی گلی میں یوں ویرانی چھاتی تھی۔ میں ایک جھٹکے سے کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔ سامنے نگاہ پڑتے ہی میرے ہاتھوں کے کبوتر اڑ گئے۔ میرے سامنے ایک بڑی سی گاڑی کھڑی تھی ۔۔۔۔ اور تین پولیس والے کھا جانے والی نظروں سے مجھے گھور رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ ان کے برابر میں ایک نہایت خوبصورت لڑکی غصے سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ لڑکی نے نیلے رنگ کا کرتا اور چوڑی دار پاجامہ پہن رکھا تھا ۔۔۔۔ ہاتھوں میں سونے کی چوڑیاں تھیں ۔۔۔۔ اور کھُسے میں انتہائی نازک پیر پھنسائے ہوئے تھے۔ گاڑی اور لڑکی اتنی خوبصورت تھیں کہ میں ایک لمحے میں سمجھ گیا کہ ان دونوں کا پولیس سے کوئی تعلق نہیں۔

’’یہی ہے جی ۔۔۔۔!!!‘‘ لڑکی نے اتنے یقین اور خوبصورتی سے کہا کہ مجھے لگا جیسے واقعی ’’میں ہی ہوں‘‘ لڑکی کا جملہ سنتے ہی تھانیدار نے اشارہ کیا اور دو پولیس والوں نے تیزی سے مجھے جکڑ لیا۔ میں ان کے ہاتھوں میں کسمسانے لگا ۔۔۔۔ ’’کک ۔۔۔۔ کیا کیا ہے میں نے ۔۔۔۔‘‘ میری مریل سی آواز نکلی۔

’’تجھے تھانے چل کر بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔ گنجے دوزخی۔۔۔۔۔‘‘ ایک کانسٹیبل نے میری ٹنڈ پر زوردار تھپڑ مارا۔ تھپڑ کی آواز اتنی تیز تھی کہ جو عورتیں ادھ کھلے دروازوں سے باہر جھانک رہی تھیں، ان کے بے اختیار ہنسی نکل گئی۔ مجھے یکدم الہام ہوا کہ میں ذلیل ہونے والا ہوں ۔۔۔۔۔ اصل میں مجھ پر اللہ تعالی کا خاص کرم ہے ۔۔۔۔۔ میں نے اکثر نوٹ کیا ہے کہ مجھے آنے والے وقت کا پہلے سے اندازہ ہوجاتا ہے۔ مجھے یقینی الہام تھا کہ میری ٹنڈ مسلسل خطرے میں ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ لڑکی مجھے گرفتار کرانے پر کیوں تلی ہوئی ہے اور اس نے کس جرم میں مجھے پہچانا ہے۔ میں لڑکی کی طرف منہ کرکے گڑگڑایا ۔۔۔۔ ’’دیکھیں جی آپ کو غلط فہمی ۔۔۔۔۔‘‘

’’پٹاخ‘‘ ۔۔۔۔ میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی میری ٹنڈ پر کانسٹیبل کا کھلا ہاتھ پڑا ۔۔۔۔۔ اور مجھے یوں لگا جیسے میرے سر پر اسٹیل کی پرات آگری ہو۔ پہلی دفعہ احساس ہوا کہ اگر میرے سر پر بال ہوتے تو مجھے اتنی چوٹ نہ لگتی۔ تھانیدار نے بھی شاید میری بات کا برا منایا تھا ۔۔۔۔ چیخ کر بولا ۔۔۔۔ ’’ابے میڈم فہمی کو غلط کہہ رہا ہے ۔۔۔۔ میں تیری ٹنڈ پھاڑ دوں گا۔‘‘

غالباً لڑکی کا نام ’’فہمی‘‘ تھا ۔۔۔۔۔ اور میرے ’’غلط فہمی‘‘ والے لفظ کو وہ لڑکی کے ساتھ منسلک کررہے تھے۔

’’آپ اسے گرفتار کرلیں ناں‘‘ ۔۔۔۔ فہمی نے تھانیدار سے ضد کی ۔۔۔۔۔ اب میں اسے کیا بتاتا کہ میں تو واقعی گرفتار ہوچکا تھا۔

’’آپ فکر نہ کریں میڈم جی ۔۔۔! ہم ابھی اسے تھانے لے کر جائیں گے ۔۔۔۔۔ چلو بٹھاؤ اوئے اسے ۔۔۔۔‘‘ اس نے سپاہیوں کو اشارہ کیا۔

’’لیکن وہ ۔۔۔۔ مم ۔۔۔۔ میرا دہی والا پیالہ ۔۔۔۔ مم ۔۔۔۔ میں ابا کو تو بتادوں ۔۔۔۔ ارے ۔۔۔۔ ارے کوئی ہے ۔۔۔۔ ارے رکو تو سہی۔۔۔۔‘‘ وہ مجھے گھسیٹتے ہوئے گاڑی میں ڈالنے لگے۔ غالباً اس شور شرابے کی اطلاع اماں کو بھی مل گئی تھی ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ تھانے والے مجھے گاڑی میں ڈالتے ۔۔۔۔ اماں بھیڑ کو چیرتی ہوئی آگے آگئیں۔

’’کیا بات ہے ۔۔۔۔ کیوں میرے بیٹے کو پکڑا ہے؟‘‘

’’یہ تمہارا بیٹا ہے؟‘‘ تھانیدار نے میری طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔!!

اماں تھانیدار کی بات سن کر یکدم چونک گئیں ۔۔۔۔ قریب ہوکر پوری تسلی سے میرا جائزہ لیا ۔۔۔۔ پھر پورے اعتماد سے بولیں ۔۔۔۔’’ہاں ۔۔۔۔ میرا ہی ہے!‘‘

تھانیدار نے مونچھوں کو تاؤ دیا ۔۔۔۔ ’’تمہارے بیٹے نے اس میڈم کا پرس چھینا ہے۔‘‘

اماں نے حیرانی سے پہلے لڑکی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ پھر میری طرف دیکھا ۔۔۔ ’’کمالے ۔۔۔۔ پیسے کدھر ہیں؟‘‘

میں سمجھا شاید وہ دہی والے پیسوں کا پوچھ رہی ہیں ۔۔۔۔ بے اختیار میرے منہ سے نکلا ۔۔۔۔ ’’جیب میں ہیں۔‘‘

یہ سنتے ہی تھانیدار زور سے اچھلا ۔۔۔۔ ’’دیکھا ۔۔۔۔ دیکھا ۔۔۔۔ مان گیا ناں گنجا پاپی۔۔۔۔‘‘ اس نے تیزی سے میری جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک جھٹکے سے باہر نکالا ۔۔۔۔ دو روپے کا سکہ اس کے ہاتھ میں چمک رہا تھا۔ وہ دھاڑا ۔۔۔۔ ’’باقی کی رقم کہاں ہے؟‘‘

میری جان نک گئی ۔۔۔۔ ’’باقی کی رقم ابا کے پاس ہوگی ۔۔۔۔ مم ۔۔۔۔ مجھے تو انہوں نے صرف دو روپے ہی دیے تھے۔‘‘

’’اوہ ۔۔۔۔ تو پورا گینگ ہے ۔۔۔۔ باپ بھی اس کا ساتھی ہے ۔۔۔۔ چلو اوئے پکڑ لو اس کے باپ کو بھی ۔۔۔۔‘‘ تھانیدار پوری قوت سے چیخا اور گاڑی میں سے دو سپاہی نکل کر ہمارے گھر کی طرف لپکے۔

(گل نوخیز اختر کے ناول ’’ٹائیں ٹائیں فش‘‘ سے اقتباس)