پیاسا سمندر

 

آدمی کتنا پیاسا ہے ، اور کس طرح اسکی پیاس بڑھتی رہتی ہے ، اور کس طرح وہ خوارج میں اپنے لئے تسکین اور آسودگی تلاش کرتا ہے ، مگر کیا کبھی بھی اسے تسکین نصیب ہوتی ہے ؟ کبھی آسودگی ملتی ہے ؟ ، مگر وہ بالکل کسی سمندر ہی کی موج در موج آگے بڑھتا چلا جاتا ہے ، کبھی چٹانوں کو کاٹتا ہے ، کبھی پہاڑوں میں رخنے کر کے انکے پرخچے اڑا دیتا ہے ، اپنی بے چینی کی وجہ وہ خود ہے ، اور اپنی تسکین کا سامان بھی اپنے دامن میں رکھتا ہے ، مگر وہ دوسروں کی پیاس تو بجھا دیتا ہے ، خود اپنی پیاس بجھانے کا سلیقہ نہیں رکھتا ۔ ۔۔ ۔ تم اسے پیاسا سمندر کہہ سکتی ہو بے بی ۔ ۔ ۔ ۔ جو پانی ہی پانی رکھنے کے باوجود بھی ازل سے پیاسا ہے ۔ ۔۔ ۔ اور اس وقت تک پیاسا رہے گا جب تک کہ اسے اپنا عرفان نہ ہو جائے ، لیکن اس میں ہزارہاں سال لگیں گے ۔ ۔ ۔۔ ابھی تو بچوں کی طرح گھٹنوں چل رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تو چاند میں جانے کی باتیں کر رہا ہے ، اسکی ذہنیت اور سوجھ بوجھ اس بچے سے زیادہ نہیں ہے جو ماں کی گود میں چاند کے لئے ہمکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ 
وہ مصنوعی سیارے اڑا کر اس طرح خوش ہوتا ہے جیسے بچے صابون کے بلبلے اڑا کر مسرور ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور ایک دوسرے سے شرط بدلتے ہیں کہ دیکھیں کس کا بُلبلا دیر تک فنا نہیں ہوتا ، اور پھر ایسے شیخیاں بگھارتے ہیں جیسے انہوں نے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو ، مگر بے بی ۔ ۔۔ ۔ چاند کا سفر آدمیت کی معراج نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ چاند کی باتیں تو ایسی ہی ہیں جیسے کوئی اپنے اصل کام سے اکتا جائے اور بیٹھ کر گنگنانا شروع کردے ۔ ۔ ۔۔
جانتی ہو آدمیت کی معراج کیا ہے ؟ ۔ ۔۔ ۔ آدمی کی معراج یہ ہے کہ آدمی خود اپنے ہی مسائل حل کر لے ۔ ۔ ۔ ۔ اگر اسنے مصنوعی سیارہ فضا میں پھینکنے کے بجائے سرطان کا کامیاب علاج دریافت کیا ہوتا تو میں سمجھتا کہ اب اسکے قدم اس راہ کی طرف اٹھ گئے ہیں جسکی انتہا اسکی معراج ہو گی ، اگر اسنے چاند تک پہنچنے کی اسکیم بنانے کی بجائے زمین کے ہنگامے کا پرامن طور پر فرو کرنے کا کوئی ذریعہ دریافت کر لیا ہوتا تو میں سمجھتا کہ اب یہ پیاسا نہیں رہے گا ، بلکھ خود کو بھی سیراب کرنے کی صلاحیت اس میں پیدا ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ہزارہا سال چاہیں اس کے لئے شمی ہزار سال۔‘‘

(ابن صفی کے ناول ’’پیاسا سمندر‘‘ سے اقتباس)