جیل

 

گزشتہ دنوں میرے ایک دوست کو غلطی سے پولیس پکڑ کر لے گئی۔ یاد رہے یہ غلطی میرے دوست کی نہیں پولیس کی تھی، لہٰذا اسے فوراً تین دن بعد چھوڑ دیا گیا۔ مجھے اس کی خوش قسمتی پر رشک آرہا تھا جسے بلاوجہ جیل میں رہنے کی سعادت نصیب ہوئی ورنہ یہاں جانے کے لئے تو بڑے بڑے لوگوں کو بھی گھنٹوں تقریریں، توڑ پھوڑ، مارکٹائی اور نہ جانے کیا کیا ناپسندیدہ فعل کرنے پڑتے ہیں، پھر کہیں جاکر انہیں جیل جانے کا موقع ملتا ہے۔

لیکن مجھے حیرانی ہوئی کہ لوگ اسے رہا ہونے کی مبارک باد دے رہے ہیں حالانکہ مبارک باد تو اسے اس بات کی دینی چاہئے تھی کہ اب وہ عام آدمی نہیں رہا کیونکہ جیل جانے والا انسانوں کے جم غفیر سے یکدم الگ ہوکر اپنی انفرادیت کا احساس دلاتا ہے۔ جیل جاتے ہی وہ اس قدر اہم ہوجاتا ہے کہ اس کی ملاقات کے لئے کئی کئی سفارشی رقعے لانا پڑتے ہیں، گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، تب کہیں وہ جھروکوں سے جھلک دکھاتا ہے۔ جسے کبھی کسی نے آنکھ بھر کر نہیں دیکھا ہوتا اسے دیکھتے ہی آنکھیں بھر آتی ہیں۔

جیل جانا دراصل شریف ہونا ہے کہ شریف وہ ہوتا ہے جو جرم نہ کرے اور جرم ہمیشہ وہ کرتے ہیں جو جیل سے باہر ہوتے ہیں بلکہ جیل دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں سب سے کم چوریاں، ڈاکے اور قتل ہوتے ہیں۔

یوں بھی اب ہمارے ہاں جیلوں میں اتنی جگہ نہیں، جتنے اس کے مستحق افراد۔ سو اب یہی حل ہے جو چند شریف شہری ہیں انہیں جیلوں میں بند کردیا جائے۔

(ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب ’’شیطانیاں‘‘ سے اقتباس)