بچے

 

بچوں سے کبھی کبھی نرمی سے بھی پیش آئیے۔ بچے سوال پوچھیں تو جواب دیجئے مگر اس انداز میں کہ دوبارہ سوال نہ کرسکیں۔ اگر زیادہ تنگ کریں تو کہہ دیجئے جب بڑے ہوگے سب پتا چل جائے گا۔ بچوں کو بھوتوں سے ڈراتے رہیئے۔ شاید وہ بزرگوں کا ادب کرنے لگیں۔ بچوں کو دلچسپ کتابیں مت پڑھنے دیجئے کیونکہ کورس کی کتابیں کافی ہیں۔

اگر بچے بیوقوف ہیں تو پروا نہ کیجئے، بڑے ہوکر یا تو جینئس بنیں گے یا اپنے آپ کو جینئس سمجھنے لگیں گے۔ بچے کو سب کے سامنے مت ڈانٹیئے۔ اس کے تحت الشعور پر برا اثر پڑے گا۔ ایک طرف لے جاکر تنہائی میں اس کی خوب تواضع کیجئے۔

بچوں کو پالتے وقت احتیاط کیجئے کہ ضرورت سے زیادہ نہ پل جائیں ورنہ وہ بہت موٹے ہوجائیں گے اور والدین اور پبلک کے لئے خطرے کا باعث ہوں گے۔

اگر بچے ضد کرتے ہیں تو آپ بھی ضد کرنا شروع کردیجئے۔ وہ شرمندہ ہوجائیں گے۔

ماہرین کا اصرار ہے کہ موزوں تربیت کے لئے بچوں کا تجزیۂ نفسی کرالینا زیادہ مناسب ہوگا۔ دیکھا گیا ہے کہ کنبے میں صرف دو تین بچے ہوں تو وہ لاڈلے بنادیئے جاتے ہیں لہٰٰذا بچے صرف دس بارہ ہونے چاہئیں تاکہ ایک بھی لاڈلہ نہ بن سکے۔ اسی طرح آخری بچہ سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے بگاڑ دیا جاتا ہے، چنانچہ آخری بچہ نہیں ہونا چاہئے۔

(’’تربیت اطفال‘‘ از شفیق الرحمٰن سے اقتباس)