شاہی سواری

 

انہیں اس گھوڑے سے پہلی نظر میں محبت ہوگئی ۔ اور محبت اندھی ہوتی ہے، خواہ گھوڑے سے ہی کیوں نہ ہو۔ انہیں یہ تک سجھائی نہ دیا کہ گھوڑے کی مدح میں اساتذہ کے جو اشعار وہ اوٹ پٹانگ پڑھتے پھرتے تھے، ان کا تعلق تانگے کے گھوڑے سے نہیں تھا۔ یہ مان لینے میں چنداں مضائقہ نہیں کہ گھوڑا شاہی سواری ہے۔ رعبِ شاہی اور شوکتِ شہانہ کا تصور گھوڑے کے بغیر ادھورا بلکہ آدھا رہ جاتا ہے۔ بادشاہ کے قد میں گھوڑے کے قد کا اضافہ کیا جائے تب کہیں وہ قدِ آدم نظر آتا ہے لیکن ذرا غور سے دیکھا جائے تو شاہی سواری میں گھوڑا دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس لئے کہ بادشاہوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مستقل اور دلپسند سواری درحقیقت رعایا ہوتی ہے۔ یہ ایک دفعہ اس پر سواری گانٹھ لیں تو پھر انہیں سامنے کوئی کنواں، کھائی، باڑھ اور رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔ جوشِ شہ زوری و شہ سواری میں نوشتہ دیوار والی دیوار بھی پھلانگ جاتے ہیں۔ یہ نوشتہ دیوار اس وقت تک نہیں پڑھ سکتے جب تک وہ Braille میں نہ لکھا ہو جسے وہ اپنا دربار سمجھتے ہیں، وہ دراصل ان کا محاصرہ ہوتا ہے جو انہیں یہ سمجھنے سے قاصر رکھتا ہے کہ جس منہ زور سر شور گھوڑے کو صرف ہنہنانے کی اجازت دے کر بآسانی آگے سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے، اسے وہ پیچھے سے قابو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ لگام کے بجائے دم مروڑتا ہے۔ مگر اس بظاہر مسکیں سواری کا اعتبار نہیں کہ یہ ابلق لقاسد ایک چال نہیں چلتی : اکثر یہ بدرکاب بنی اور بگڑ گئی۔

(مشتاق احمد یوسفی کی کتاب ’’آبِ گم‘‘ سے اقتباس)