بابائے اردو مولوی عبدالحق

 

آج 16 اگست بابائے اردو مولوی عبدالحق کی برسی کا دن ہے۔ مولوی عبدالحق 20 اگست 1870 کو باپوڑ ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔  ابتدائی تعلیم کے بعد 18 سال کی عمر میں علی گڑھ اسکول و کالج میں بغرضِ تحصیل علم وابستہ ہوگئے اور 1994 میں علی گڑھ سے بی اے کیا۔

مولوی عبدالحق کا اردو زبان پر جس قدر احسان ہے شاید ہی کسی اور کا ہو۔ اردو زبان کو آج جو ایک عالمگیر حیثیت حاصل ہے یہ مولوی عبدالحق کی پوری زندگی کی ریاضت اور محنت کا ثمرہ ہے اور ان کی اس محنت کا پھل قدرت نے انہیں اس طرح دیا کہ وہ اردو زبان کے بابا کہلائے اور اب بابائے اردو ان کے نام کا جزو بن کر رہ گیا ہے۔ بابائے اردو نے سرسید احمد خان، محسن الملک، حالی، جسٹس محمود جیسی شخصیات کی صحبتیں اٹھائی تھیں۔ آپ کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں پہلی بار 1937 میں الٰہ آباد یونیورسٹی اور 1941 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’’ڈی لٹ‘‘ کی اعزازی اسناد عطا کیں۔ مولوی عبدالحق 1912 میں اورنگ آباد میں ’’انسپکٹر آف اسکولز‘‘ اور بعد میں عثمانیہ کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ مشہور انگریزی ناول نگار ای ایم فوسٹر نے اپنی کتاب میں مولوی عبدالحق کے ان دنوں کا تذکرہ کیا ہے۔ آپ نے اپنی نگرانی میں رسالہ ’’افسر‘‘ (1899) اور ’’اردو‘‘ جاری کرائے۔ بے شمار تحقیقی کتابوں اور مقالوں کو تحریر کیا۔ ’’انجمن ترقی اردو‘‘ آپ کا عظیم کارنامہ ہے تاہم کراچی آکر آپ کا سب سے بڑا کارنامہ ’’اردو کالج‘‘ کا قیام ہے جو بعد میں یونیورسٹی بنا۔ بابائے اردو نے اردو کی ضخیم لغت کا آغاز بھی کیا اور اس کی پہلی جلد اختر حسین رائے پوری کے ساتھ مل کر شائع کرائی۔ ’’چند ہم عصر‘‘ بھی آپ کی مشہور تصنیف ہے۔

اردو کی ترویح و اشاعت کے سلسلے میں مولوی عبدالحق نے برصغیر کے چپے چپے کا دورہ کیا۔ ان کی زندگی کا ہر دور مسلسل جدوجہد اور عمل سے بھرپور ہے۔

حکیم الامت علامہ اقبال کا مشہور مصرع ہے ’’بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔‘‘ حقیقتاً یہ مصرع مولوی عبدالحق پر سب سے زیادہ چسپاں ہوتا ہے۔ ان کی دیدہ وری کو اگر ہم وسیع تناظر میں دیکھیں تو وہ ہمہ جہت اور ہمہ صفت نظر آتی ہے۔ مکتب نگاری، خاکہ نویسی، تحقیق و تنقید اور لغت نگاری ان کی دیدہ وری کی مختلف جہتیں ہیں۔

اردو زبان کا یہ آفتاب 16  اگست 1961 کو کراچی میں غروب ہوگیا۔ مولوی عبدالحق کی رحلت کوئی معمولی سانحہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی موت ہے جس پر تہذیب و ادب کا ایک پورا دور ختم ہوگیا۔۔