قرۃ العین حیدر

 

آج 21 اگست اردو کی نام ور افسانہ نگار اور ناول نگار قرۃ العین حیدر کی برسی ہے۔

قرۃ العین حیدر اردو ادب کا وہ روشن مینار ہے جو بحر ادب میں آنے والے ہر سفینے کی رہنمائی کررہا ہے۔ قرۃ العین حیدر ادبی حلقوں میں ’’عینی آپا‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے ناول نگاری کو اس وقت اپنایا جب اردو ادب شاعری کے زیر اثر تھا۔  اردو کے افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں عینی آپا کا مقام بہت بلند ہے۔ وہ 20 جنوری 1926 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں، وہ مشہور انشا پرداز سید سجاد حیدر بلدرم کی صاحبزادی ہیں۔  بچپن کا زمانہ جزائر انڈمان میں گزارا۔ اس کے بعد ڈیرہ دون کاؤنٹ میں تعلیم حاصل کی اور 1947 میں لکھنو یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔  قرۃ العین حیدر نے تقریباً اسی زمانے میں افسانہ نویسی کا آغاز کیا۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’ستاروں سے آگے‘‘ تھا جسے جدید افسانہ کا نقطہ آغاز قرار دیا جاسکتا ہے۔ 1947 میں وہ پاکستان چلی آئیں جہاں وہ حکومت پاکستان کے شعبہ اطلاعات و فلم سے وابستہ ہوگئیں۔ یہاں ان کے کئی ناول شائع ہوئے جن میں میرے بھی صنم خانے، سفینہ غم دل اور آگ کا دریا قابل ذکر ہیں۔ کچھ عرصے بعد وہ واپس بھارت چلی گئیں۔ ہندوستان جانے کے بعد ان کے کئی افسانوی مجموعے، ناولٹ اور ناول شائع ہوئے جن میں ہاؤسنگ سوسائٹی، پت جھڑ کی آواز، روشنی کی رفتار، گلگشت، ستیا ہرن، چائے کے باغ، اگلے جنم موہے بٹیانہ کیجو، جہان دیگر، دلربا، گردش رنگ چمن اور چاندنی بیگم قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا سوانحی ناول ’’کار جہاں دراز ہے‘‘ بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ 1989 میں انہیں حکومت ہندوستان نے گیان پیٹھ ایوارڈ عطا کیا جو ہندوستان کا ایک بہت بڑا ادبی ایوارڈ ہے۔ 2005 میں حکومت ہند نے انہیں پدم بھوشن کے اعزاز سے سرفراز کیا۔

قرۃ العین حیدر نے 21 اگست 2007 کو دہلی کے نزدیک نونیڈا کے مقام پر وفات پائی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔