آج کا دن اردو ادب کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ 25  اگست پاکستان کے مشہور و معروف شاعر احمد فراز اور مخدوم محی الدین کی برسی کا دن ہے۔ اس کے علاوہ اردو کے مشہور ڈرامہ ، افسانہ اور ناول نگار اے حمید کی پیدائش کا دن بھی ہے۔ ذیل میں ہم ان تینوں ادبی شخصیات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔

 

احمد فراز


آج 25 اگست پاکستان کے مشہور و معروف شاعر احمد فراز کی برسی کا دن ہے۔ وہ 4 جنوری 1931ء کو پاکستان کے شہر کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔ ایڈورڈ کالج (پشاور) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لئے فیچر لکھنے شروع کئے۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’تنہا تنہا‘‘ شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے۔ ان کے دوسرے مجموعہ ’’درد آشوب‘‘ کو پاکستان رائٹرز گڈز کی جانب سے ’’آدم جی ادبی ایوارڈ عطا کیا گیا، 1976ء کو اکادمی ادبیات پاکستان کے پہلے سربراہ مقرر ہوئے۔ بعد ازاں جنرل ضیاء کے دور میں انہیں مجبوراً جلاوطنی اختیار کرنی پڑی۔
آپ 2006ء تک ’’نیشنل بک فاؤنڈیشن‘‘ کے سربراہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی انٹرویو کی پاداش میں انہیں ’’نیشنل بک فاؤنڈیشن کی ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ احمد فراز نے 1988ء میں ’’آدم جی ادبی ایوارڈ اور 1990ء میں ’’اباسین ایوارڈ‘‘ حاصل کیا۔ 1988ء میں انہیں بھارت میں ’’فراق گورکھ پوری ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ اکیڈمی آف اردو لٹریچر (کینیڈا) نے بھی انہیں 1991ء میں ایوارڈ دیا جب کہ بھارت میں انہیں 1992ء میں ’’ٹاٹا ایوارڈ‘‘ ملا۔
ان کا کلام علی گڑھ یونیوسٹی اور پشاور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے۔ جامعہ ملیہ (بھارت) میں ان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا گیا جس کا موضوع ’’احمد فراز کی غزل‘‘ ہے۔ بہاولپور میں بھی ’’احمد فراز، فن اور شخصیت‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا گیا۔ ان کی شاعری کے انگریزی، فرانسیسی، ہندی، یوگوسلاوی، روسی، جرمن اور پنجابی میں تراجم ہوچکے ہیں۔ 2004ء میں انہیں ہلال امتیاز سے نوازا گیا لیکن انہوں نے یہ تمغہ سرکاری پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے واپس کردیا۔ 

احمد فراز کا انتقال 25 اگست 2008ء میں ہوا۔

 

اے حمید

 

آج مورخہ 25 اگست اردو کے مشہور ڈرامہ، افسانہ اور ناول نگار اے حمید کا یوم پیدائش ہے۔ اے حمید 25  اگست 1928 کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔

قیام پاکستان کے بعد پرائیویٹ طور پر ایف اے پاس کرکے ریڈیو پاکستان پر اسسٹنٹ اسکرپٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد وائس آف امریکہ سے وابستہ ہوئے۔ اے حمید کا شمار اردو کے ان ممتاز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے افسانے کے فن کو ثروت مند بنانے میں اپنی پوری زندگی صرف کر دی اور کہانی کے بیانیہ کو اپنے رومانی اسلوب سے اس طرح آراستہ کیا کہ پھر تخلیق قاری اور مصنف میں کوئی فاصلہ نہ رہا۔ اے حمید ان کامیاب مصنفین میں سے ہیں جنھوں نے اپنے معاصرین کو اور بچوں کی متعدد نسلوں کو متاثر کیا۔ آزادی کے بعد ان کا افسانہ ’’منزل منزل‘‘ شائع ہوا تو وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ انھوں نے افسانے کے محدود کینوس کو وسعت دی تو ناول نگاری کی طرف آگئے اور ’’دڑبے‘‘ جیسا کامیاب ناول لکھا جو اندرون لاہور کی تہذیبی زندگی کا آئینہ دار ہے۔
اے حمید کا شمار سعادت حسن منٹو، احسان دانش اور ساغر صدیقی جیسے ادیبوں میں ہوتا تھا جنھوں نے قلم کی مشقت سے اپنی زندگی کی ضرورتیں پوری کرنے کا سلسلہ عمر بھر جاری رکھا۔ اے حمید کا پہلا افسانہ ’’منزل منزل‘‘ ادب لطیف میں 1948 میں شائع ہوا تھا جو بے حد مقبول ہوا۔

اے حمید نے بچوں کے ادب پر بھی بہت کام کیا۔ 100 کے قریب بچوں کے لیے ناول لکھے۔ امبر ناگ اور ماریہ کی سو سے زائد کہانی سیریز پر مشتمل کتابیں بچوں کے ادب میں بیش بہا اضافہ ہیں۔ بچوں کے لیے ہی لکھے جانے والے ٹی وی ڈرامہ سیریل ’عینک والا جن‘ پاکستان ٹیلی وژن کی تاریخ میں طویل ترین منفرد و مشہور ڈرامہ سیریل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جن بچوں نے اس ڈرامہ سیریل کو دو دہائی قبل ٹی وی پر دیکھا، وہ آج بھی اس کے اثر انگیز کرداروں، کہانیوں اور ڈائیلاگز کے سحر سے نہیں نکل پائے، اس ڈرامہ نے پوری نسل کو مسمیرائز کیے رکھا، بلکہ ڈرامے کے کئی کردار اور ڈائیلاگز محاورے بن کر زبان زد عام بھی ہوئے۔ 

اے حمید عصر حاضر کے ترجمان، جذباتی اور رومانی فطرت سے عشق کرنے والے افسانہ نگار ہیں، فطری حسن و دلکشی سے دلچسپی نے ان کی تحریروں میں نغمہ و شعر کی سی رنگینی و روانی بھردی ہے جو پڑھنے والے سحر زدہ کردیتی ہے۔

ان کی مشہور تخلیقات میں ’’منزل منزل‘‘ ، ’’ڈربے‘‘ ، اردو شعر کی داستان‘‘ ، ‘‘اردو نثر کی داستان‘‘ ، ’’مرزا غالب لاہور میں‘‘ ، ’’دیکھو شہر لاہور‘‘ ، ’’یادوں کے گلاب‘‘ ، گلستان ادب کی سنہری یادیں‘‘ ، ’’لاہور کی یادیں‘‘ ، ’’امرتسر کی یادیں‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔

اے حمید کی کچھ مقبول عام کتابوں میں پازیب، شہکار، تتلی، بہرام، بگولے، دیکھوشہر لاہور، جنوبی ہند کے جنگلوں میں، گنگا کے پجاری ناگ، پہلی محبت کے آنسو، اہرام کے دیوتا، ویران حویلی کا آسیب، اداس جنگل کی خوشبو، بلیدان، چاند چہرے اور گلستان ادب کی سنہری یادیں شامل ہیں۔

کہانی، ناول اور ڈرامے کے علاوہ اے حمید نے اردو شاعری اور اردونثر کی تاریخ بھی مرتب کی تھی جس سے ادب کے طالب علم آج تک استفادہ کرتے ہیں۔ اے حمید 29 اپریل 2011 کو لاہور میں انتقال کرگئے۔

 

مخدوم محی الدین

 

آج 25 اگست معروف ترین اردو شاعر مخدوم محی الدین کی برسی ہے۔ مخدوم محی الدین 4 فروری 1908 کو حیدر آباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔ غزل اور نظم کے معتبر شاعر تھے۔ ان کے والد غوث محی الدین ایک مذہبی ادارے سے وابستہ تھے۔ مخدوم کی رہائش بھی مسجد سے ملحق گھر میں تھی۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی، مزدور طبقے کے شاعر اور ہم نوا تھے۔ عملی سیاست میں بھی حصہ لیا۔ بغاوت کے جرم میں سزا بھی ہوئی۔ آپ کا شعری سفر تقریباً 35 برسوں پر محیط ہے۔ آپ نے نظم اور غزل دونوں اصناف میں شاعری کی۔ زود گو شاعر تھے۔ تین شعری مجموعےسرخ سویرا، بساط رقص، گل تر، زندگی میں شائع ہوئے۔ زیادہ تر نظمیں کہیں۔ ان کی نظمیں اور غزلیں ان کے فکری رویے کی ترجمانی کرتی ہیں۔

مخدوم محی الدین کا انتقال 25 اگست 1969 کو حیدر آباد میں ہوا۔