آج 11  ستمبر اردو ادب کی تاریخ میں نہایت اہم دن ہے۔ آج کے دن معروف افسانہ نگار اور ناول نگار ممتاز مفتی اور معروف شاعرہ ثمینہ راجہ کا یوم پیدائش ہے۔ ذیل میں ہم ان دونوں شخصیات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔

 

ممتاز مفتی

 

ممتاز مفتی 11 ستمبر 1905 کو ضلع گورداس پور کے گاؤں بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ 1929 میں اسلامیہ کالج ان کا اصل نام مفتی ممتاز حسین تھا۔ لاہور سے گریجویشن کیا، آل انڈیا ریڈیو سے منسلک رہے جبکہ 1947  میں فلم ’’رضیہ سلطانہ‘‘ لکھی۔ ممتاز مفتی ہفت روزہ استقلال میں بطور سب ایڈیٹر وابستہ رہے، مختلف اداروں میں خدمات سرانجام دینے کے بعد 1966 میں وزارت اطلاعات سے بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریٹائرڈ ہوئے۔

ممتاز مفتی کا پہلا افسانہ ’’جھکی جھکی آنکھیں‘‘ 1936 میں شائع ہوا اور قیام پاکستان سے قبل ان کے تین افسانوی مجموعے ’’ان کہی‘‘، ’’چپ‘‘ اور ’’گہما گہمی‘‘ منظر عام پر آچکے تھے۔ ان کے دیگر افسانوں میں ’’روغنی پتلے‘‘ اور ’’سمے کا بندھن‘‘ شامل ہیں  ’’علی پور کا ایلی‘‘ اور ’’الکھ نگری‘‘ سوانحی ناول میں شمار ہوتے ہیں جبکہ ’’ہند یاترا‘‘ ’’لبیک‘‘ جیسے سفرنامے بھی تحریر کئے اور خاکہ نگاری میں ’’اوکھے لوگ‘‘، ’’پیاز کے چھلکے‘‘ اور ’’تلاش‘‘ جیسی کتابوں کے خالق ہیں۔

ممتاز مفتی کا انتقال 27 اکتوبر 1995 میں اسلام آباد میں ہوا۔ اردو کے ایک بڑے افسانہ نگار کی حیثیت سے ممتاز مفتی کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

 

ثمینہ راجا

 

مشہور و معروف شاعرہ، مدیرہ، براڈ کاسٹر ثمینہ راجا  11 ستمبر 1961 کو رحیم یار خان میں پیدا ہوئیں۔ ایم اے (اردو ادبیات) میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ گھریلو روایات سے انحراف کرتے ہوئے یعنی جاگیردارانہ نظام کی مخالفت کرتے ہوئے آپ نے بہت کم سنی یعنی گیارہ برس کی عمر سے شاعری شروع کردی اور جلد ہی آپ کا کلام برصغیر کے ممتاز ادبی جرائد کی زینت بنا۔ آپ کا پہلا مجموعہ کلام ’’ہویدا‘‘ 1995 کو شائع ہوا۔ 1998 میں آپ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ادبی پرچے ’’کتاب‘‘ کی مدیرہ ہوئیں۔ اس کے علاوہ مختلف ادبی رسالوں کی مدیرہ رہیں۔

ثمینہ راجا ایک درجن کے قریب شعری مجموعوں کی خالق ہیں جن میں ہویدا، شہرِ رسا، وصال، خوبنائے، باغِ شب، باز دید، پری خانہ، ہفت آسمان، عدن کے راستے پر، دل لیلٰی، عشق آباد، کلیات ثمینہ راجا (دو جلدیں) وغیرہ شامل ہیں۔

ثمینہ راجا کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہوکر 30 اکتوبر 2012 کو اسلام آباد میں وفات پاگئیں ۔