رئیس امروہوی

 

آج 12 ستمبر برصغیر کے بلند پایہ شاعر، ادیب، صحافی رئیس امروہوی کا یوم پیدائش ہے۔ سید محمد مہدی المعروف رئیس امروہوی 12 ستمبر 1914 کو یوپی کے شہر امروہہ کے علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1936 میں صحافت سے وابستہ ہوئے۔ آپ سید محمد تقی اور جون ایلیا کے بڑے بھائی تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور روزنامہ جنگ کراچی سے بطور قطعہ نگار اور کالم نگار وابستہ ہوگئے۔ اس ادارے سے ان کی یہ وابستگی تاعمر جاری رہی۔

صحافت کے ساتھ ساتھ شاعری اور نثر نگاری میں بھی طبع آزمائی کی۔ زبان میں فصاحت، بیان میں سلاست، نظر میں وسعت کی بدولت جس موضوع پر بھی لکھا خوب لکھا۔ آپ کے شعری مجموعوں میں مثنوی لالہ صحرا، پس غبار، قطعات، حکایت، بحضرت یزداں، انامن الحسین اور آثار کو شہرت ملی اور نثری تصانیف میں نفسیات و مابعد النفسیات، عجائب نفس، عالم برزخ، حاضرات ارواح کی تحریریں زیادہ مقبول ہوئیں۔ غزل ہو یا نظم، قطعات ہوں یا رباعیاں، ادب ہو یا فلسفہ، رندی و مستی ہو یا فقر و تصوف، سنجیدہ مضامین ہوں یا طنز و مزاح، وہ ہر میدان کے ’’مرد میدان‘‘ نظر آتے ہیں۔  22 ستمبر  1988 کو وہ ایک نامعلوم قاتل کی گولیوں کا نشانہ بن گئے اور کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

خاموش زندگی جو بسر کررہے ہیں ہم

گہرے سمندروں میں سفر کررہے ہیں ہم

اپنی تو ہم گزار چکے زندگی رئیس

یہ کس کی زیست ہے جو بسر کررہے ہیں ہم