موٹر سائیکل

 

میرا دوست ’’ف‘‘ کہتا ہے محبت بڑا بے زبان جذبہ ہے، یعنی اظہار کے لئے زبان کا محتاج نہیں۔

’’ف‘‘ کہتا ہے میں موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھنے والے کے انداز سے اس کے چلانے والے کے ساتھ رشتے کا اندازہ لگا سکتا ہوں۔

اگر موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھی خاتون کے بجائے چلانے والا شرما رہا ہو تو سمجھ لیں وہ اس کی ’’اہل خانہ‘‘ ہے۔

اور اگر وہ اس طرح بیٹھے ہوں کہ دیکھنے والے شرما رہے ہوں تو سمجھ لیں ’’اہل کھانا‘‘ ہے۔

موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھنا بھی ایک فن ہے۔ خواتین منہ ایک طرف کرکے یوں بیٹھتی ہیں کہ جیسے ابھی اترنے والی ہوں۔ بلکہ بعض اوقات بیٹھی ہوئی نہیں بٹھائی ہوئی لگتی ہیں۔

کچھ خواتین تو خوفزدہ مرغی کی طرح پروں میں کئی بچے چھپائے ہوئے ہوتی ہیں۔ لگتا ہے سفر نہیں “suffer” کررہی ہیں۔

چند یوں بیٹھی ہوتی ہیں جیسے چلانے والے کی اوٹ میں نماز پڑھ رہی ہوں۔

بعض تو دور سے کپڑوں کی ایک ڈھیری سی لگتی ہیں۔ جب تک یہ ڈھیری اتر کر چلنے نہ لگے، پتا نہیں چلتا اس کا منہ کس طرف ہے؟

نئی نویلی دلہن نے خاوند کو پیچھے سے یوں مضبوطی سے پکڑ رکھا ہوتا ہے جیسے ابھی تک اس پر اعتبار نہ ہو۔

جبکہ بوڑھی عورتوں کی گرفت بتاتی ہے کہ انہیں خود پر اعتبار نہیں۔

جب میں کسی شخص کو سائیکل کے پیچھے بیٹھے دیکھتا ہوں جس نے اپنا جیسا انسان سائیکل میں جوت رکھا ہوتا ہے تو میرے منہ سے بددعا نکلتی ہے۔ مگر جب میں کسی کو موٹر سائیکل کے پیچھے آنکھیں بند کرکے چلانے والے پر اعتماد کئے بیٹھے دیکھتا ہوں تو میرے منہ سے اس کے لئے دعا نکلتی ہے کیونکہ اس سیٹ پر مجھے اپنی پوری قوم بیٹھی نظر آرہی ہوتی ہے۔

(ڈاکٹر یونس بٹ کی کتاب ’’شیطانیاں‘‘ سے اقتباس)