آج مورخہ 17 ستمبر پاکستان کے مشہور شاعر، ڈرامہ نگار اور نقاد عابد علی عابد کا یوم پیدائش اور پٹیالہ گھرانے کے لیجنڈ غزل گائیک استاد امانت علی خان کی برسی کا دن ہے۔ ذیل میں ہم ان دونوں شخصیات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔

 

عابد علی عابد

 

آج 17 ستمبر پاکستان کے مشہور شاعر، نقاد اور ڈرامہ نگار عابد علی عابد کا یوم پیدائش ہے۔ سید عابد علی عابد اردو کے بڑے تنقید نگاروں میں سے ایک ہیں۔ وہ 17 ستمبر 1906 کو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں پیدا ہوئے۔

آپ درس و تدریس سے وابستہ رہے اور دیال سنگھ کالج، لاہور کے سب سے معروف پرنسپل رہے۔ آپ نے اردو تنقید اور ڈرامے بھی لکھے۔ سید عابد علی عابد نے 1940 سے 1950 کے دوران ریڈیو کے لئے کئی ڈرامے بھی لکھے۔ پنجابی کی پہلی بولتی فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ کی کہانی اور اسکرین پلے بھی لکھا۔

عابد علی عابد کی مشہور ناولوں میں ’’طلسمات‘‘ اور ’’شاہ باز خان‘‘ کو بے پناہ مقبولیت حاسل ہوئی۔ ’’میں کبھی غزل نہ کہتا‘‘ مشہور مجموعہ کلام ہے۔ دیگر تخلیقات میں ’’فلسفے کی کہانی، ’’اصولِ انتقادِ ادبیات‘‘، ’’البدیع محسناتِِ، ’’البیان‘‘، ’’اسلوب‘‘، ’’شعر اقبال‘‘ اور ’’نظریہ سیاسی شیعہ‘‘بہت مقبول ہوئیں۔ آپ ادبی پرچہ ’’صحیفہ‘‘ لاہور کے مدیر بھی رہے۔

عابد علی عابد کے اسلوب شعر کے بارے میں ناقدین نے بہت کچھ لکھا ہے اور لکھتے رہیں گے۔ ان کے ہاں کلاسیکل اور جدید شاعری کا ایک حسین امتزاج ہے۔ موسیقی سے لگاؤ نے ان کی شاعری کو ایسی غنایت عطا کی ہے جو ان کے ہم عصر شعرا میں بہت کم ملتی ہے۔

سید عابد علی عابد کا انتقال 20 جنوری 1971 کو لاہور میں ہوا۔

 

 

استاد امانت علی

 

آج 17 ستمبر پٹیالہ گھرانے کے لیجنڈ کلاسیکل و غزل گائیک استاد امانت علی خاں کی برسی ہے۔ استاد امانت علی خاں نے 1922 میں بھارت کے صوبہ پنجاب کے علاقہ شام چوراسی ہوشیار پور میں اختر حسین خان کے ہاں جنم لیا جن کے والد علی بخش جرنیل پٹیالہ گھرانے کے سربراہ تھے۔ استاد امانت علی خان تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے اور لاہور میں ریڈیو پاکستان سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔

اپنی شاندار خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعزاز پانے والے استاد امانت علی خان نے گائیکی کی تربیت اپنے والد استاد اختر حسین سے حاصل کی۔ ان کی اپنے بھائی استاد فتح علی خان کے ساتھ بنائی گئی جوڑی بہت مقبول ہوئی۔ وہ بنیادی طور پر کلاسیکل گائیک تھے لیکن انہوں نے موسیقی کی جس بھی صنف کو گایا وہ سننے والوں میں مقبول ہوئی۔ انہوں نے فن گائیکی کو اپنی جادوئی آواز سے مقبولیت کی معراج تک پہنچایا۔

استاد امانت علی خان نے سینکڑوں کی تعداد میں انتہائی دلفریب نغمات و غزلیں گائیں جن میں ’’ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام بھی آئے‘‘،’’اے وطن پیارے وطن‘‘، ’’انشا جی اٹھو‘‘، ’’اے میرے پیار کی خوشبو‘‘، ’’یہ آرزو تھی‘‘۔ ’’موسم بدلا رت گدرائی‘‘، ’’یہ نہ تھی ہماری قسمت‘‘، ’’کب آؤ گے‘‘ شامل ہیں۔

استاد امانت علی خان 17 ستمبر 1974 کو 52 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔