مظفر رزمی

 

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی

 

اس شہرہ آفاق شعر کے خالق اردو کے معروف شاعر مظفر رزمی کا آج یوم پیدائش ہے۔

مظفر رزمی 24 ستمبر 1936 کو کیرانہ (مظفر نگر) میں پیدا ہوئے۔ وہ ممتاز شاعر مشیر جھنجھانوی کے شاگرد تھے۔ کیرانہ کی بلدیہ میں تیس سال تک سرکاری ملازم رہے۔ مظفر رزمی کا شمار اردو دنیا کے ان چند خوش نصیب شاعروں میں کیا جاتا ہے جو اپنے چند اشعار کی وجہ ہی سے مشہور ہوگئے اور وہ اشعار ہی ان کی پہچان بن گئے۔ مظفر رزمی نے امریکہ، برطانیہ، پاکستان اور سعودی عرب میں مشاعروں میں شرکت کی۔ مظفر رزمی کا ایک شعری مجموعہ ’’لمحوں کی خطا‘‘ اردو اور انگریزی میں شائع ہوچکا ہے۔ 

مظفر رزمی 19 ستمبر 1976 کو کیرانہ میں وفات پاگئے۔

 میرے دامن میں اگر کچھ نہ رہے گا باقی

اگلی نسلوں کو دعا دے کے چلا جاؤں گا