اصغر سودائی

 

نعرہ پاکستان یعنی ’’پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے خالق، تحریک پاکستان کے نامور کارکن، ماہر تعلیم اور شاعر اصغر سودائی کا آج یوم پیدائش ہے۔

اصغر سودائی 26 ستمبر 1926 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ پیدائشی نام محمد اصغر تھا اور پروفیسر اصغر سودائی تخلص کیا۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے گریجویشن کیا جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اقتصادیات کا امتحان پاس کیا اور واپس سیالکوٹ آکر اسلامیہ کالج میں تدریسی خدمات سرانجام دینے لگے۔  انہوں نے شعبہ تعلیم کو اپنا پیشہ بنایا اور علامہ اقبال کالج سیالکوٹ کے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔ آپ نے اپنی ساری زندگی تعلیم و ادب کی آبیاری میں گزاری۔ اصغر سودائی جب مرے کالج میں زیر تعلیم تھے تو 1944 میں ایک جلسہ عام میں اپنی نظم ’’پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ لا الٰہ الا اللہ‘‘ سنائی۔ یہ نظم اس قدر مقبول ہوئی کہ مرے کالج کے در و دیوار سے نکل کر پورے ہندوستان کے گلی کوچوں میں زبان زد عام ہوگئی۔ یہ نعرہ ہندوستان کے طول و عرض میں اتنا مقبول ہوا کہ تحریک پاکستان اور یہ نعرہ لازم و ملزوم ہوگئے اور اسی لئے قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ ’’تحریک پاکستان میں پچیس فیصد حصہ اصغر سودائی کا ہے۔‘‘ قائد اعظم محمد علی جناح جب تحریک پاکستان کے دوران سیالکوٹ تشریف لائے تو ان کا استقبال کرنے والوں میں اصغر سودائی پیش پیش تھے اور ان کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر جلوس نکالا۔

پروفیسر اصغر سودائی 17 مئی 2008 کو سیالکوٹ میں انتقال فرماگئے۔ آپ نے ایک شعری مجموعہ ’’چلن صبا کی طرح‘‘ یادگار کے طور پر چھوڑا ہے۔