محسن بھوپالی

 

نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھئے

منزل اسے ملی جو شریک سفر نہ تھے

محسن بھوپالی کا یہ تاریخی شعر ان کی سیاسی بصیرت کا آئینہ دار ہی نہیں بلکہ ان کی شناخت بھی ہے۔ آج مورخہ 29 ستمبر ان کی پیدائش کا دن ہے۔ ذیل میں ہم ان کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔

محسن بھوپالی کا خاندانی نام عبدالرحمٰن تھا اور آپ 1932 میں بھوپال سے متصل ضلع ہوشنگ آباد کے قصبہ سہاگ پور میں پیدا ہوئے۔ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد انجینئرنگ کا ڈپلومہ این ای ڈی کالج کراچی سے حاصل کیا اور محکمہ تعمیرات سندھ میں ملازم ہوگئے۔ ملازمت کے دوران انہوں نے ایم اے اردو اور صحافت میں کیا۔ آپ نے تقریباً 22 کتابیں تصنیف کیں۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان نقل مکانی کرکے لاڑکانہ منتقل ہوا۔ کچھ عرصے بعد حیدر آباد میں رہائش اختیار کی اور پھر کراچی منتقل ہوگئے۔ محسن بھوپالی کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’’شکست شب‘‘ 1961 میں منظر عام پر آیا۔ دوسرا مجموعہ ’’گرد مسافت‘‘ شائع ہوا۔ اس کے علاوہ جستہ جستہ، نظمانے اور ماجرہ ان کے قابل ذکر مجموعے ہیں۔ 1950 کے عشرے میں انہیں اس وقت شہرت ملی جب تحریک پاکستان کے رہنما سردار عبدالرب نشتر نے ایک جلسے میں ان کا شعر ’’نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھئے ۔۔۔۔۔ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے‘‘ پڑھا۔ یہ شعر زبان زد عام ہوگیا اور محاورے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ محسن بھوپالی کی شاعری میں ادب اور معاشرے کے گہرے مطالعے کا عکس نظر آتا ہے۔ انہوں نے جاپانی ادب کا اردو میں ترجہ کیا اور ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی۔

18 جنوری  2007 کو نمونیا کی وجہ سے وہ کراچی میں انتقال کرگئے۔