آج مورخہ یکم اکتوبر اردو ادب کی تاریخ میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ آج اردو کے ممتاز مزاح نگار اور ادیب پطرس بخاری، اردو کے صاحب اسلوب شاعر شکیب جلالی اور معروف شاعر مجروح سلطان پوری کا یوم پیدائش ہے۔ ذیل میں ہم ان تینوں عظیم شخصیات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔

 

پطرس بخاری

 

گلشن اردو ادب میں طنز و مزاح کے رنگارنگ پھول کھلانے والے ممتاز ادیب، مزاح نگار اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے سفیر پطرس بخاری کا اصل نام سید احمد شاہ بخاری تھا، وہ یکم اکتوبر 1898 کو پشاور میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم پشاور میں حاصل کی، ایف اے کرنے کے بعد لاہور آگئے، انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور اول پوزیشن حاصل کی پھر کیمبرج یونیورسٹی سے علمی اعزاز کے ساتھ آنر کیا۔ آغاز میں سینٹرل ٹریننگ کالج میں پروفیسر مقرر ہوئے، اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی کے پروفیسر بن گئے۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ وہ کالج کے ادبی مجلے ’’راوی‘‘ کے ایڈیٹر بھی رہے۔ سات برس تک ریڈیو سے بطور کنٹرولر جنرل منسلک رہے۔ پطرس بخاری کو 1949 میں اقوام متحدہ میں پاکستان کا نمائندہ مقرر کیا گیا۔ وہ 1954 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

پطرس بخاری کا شمار پاکستان کے صف اول کے مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ مغربی ادبیات کا مطالعہ وسیع تھا جس سے اپنے مضامین میں انہوں نے کافی استفادہ کیا۔  انہوں نے انگریزی ادب کے شاہکار مضامین کا اردو میں ترجمہ کیا۔  پطرس نے اردو مزاح نگاری میں فطری انداز پیدا کیا۔ واقعات کے بیان میں مزاح کے فطری پہلو نکال لیتے تھے۔ ان کے مزاح میں طنز کا رنگ بہت مدھم ہے۔ انہوں نے کردار نگاری میں بھی کمال دکھایا۔ پطرس کا ایک امتیازی وصف ان کا اسلوب بیان ہے۔

پطرس بخاری 5 دسمبر 1958 کو نیویارک میں انتقال فرماگئے۔ ان کی خدمات کے صلے میں بعد از وفات حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز عطا کیا گیا۔

 

شکیب جلالی

 

اردو کے صاحب اسلوب شاعر شکیب جلالی یکم اکتوبر 1934 کو علی گڑھ کے قریب ایک قصبے جلالی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید حسن رضوی تھا۔ انہوں نے بدایوں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1950 میں وہ پاکستان آگئے اور سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا اور لاہور سے بی اے آنرز کی ڈگری لی۔ انہوں نے نہایت کم عمری میں شاعری شروع کردی تھی۔ ملازمتوں کے سلسلے میں وہ مختلف شہروں میں مقیم رہے۔ انہوں نے ایک رسالہ ’’جاوید‘‘ بھی نکالا کچھ عرصے بعد یہ بند ہوگیا اور پھر ’’مغربی پاکستان‘‘ نام کے سرکاری رسالے سے وابستہ ہوئے۔

12 نومبر 1966 کو اردو کے صاحب اسلوب شاعر شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے سامنے کود کر خودکشی کرلی۔ مرنے کے بعد ان کی جیب سے کاغذ کا ٹکڑا ملا جس پر ان کا اپنا ہی ایک شعر لکھا ہوا تھا۔

تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں

آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ

شکیب جلالی نے صرف 32 برس کی عمر پائی۔ مگر انہوں نے اتنی کم مہلت میں جو شاعری کی وہ انہیں اردو غزل میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔

شکیب جلالی ایک منفرد اسلوب کے شاعر تھے۔ انہوں نے بلاشبہ غزل کو ایک نیا لہجہ دیا۔ ان کا شعری مجموعہ ’’روشنی اے روشنی‘‘ ان کے ناگہانی انتقال کے چھ برس بعد 1972 میں لاہور سے شائع ہوا۔ 2004 میں لاہور ہی سے ان کے کلام کے کلیات بھی شائع ہوئی۔

 

مجروح سلطان پوری

 

’’اک دن بک جائے گا ماٹی کے مول‘‘ جیسے گانوں کے خالق مجروح سلطان پوری کا اصل نام اسرارالحسن خان تھا۔ وہ یکم اکتوبرسنہ1919 کو اتر پردیش کے ضلع سلطان پور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد سب انسپکٹر تھے۔ مجروح نے صرف ساتویں جماعت تک اسکول میں پڑھا پھر عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی اور سات سال کا کورس پورا کیا۔ درس نظامی کا کورس مکمل کرنے کے بعد عالم بنے، جس کے بعد لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج سے یونانی طریقہ علاج میں تعلیم حاصل کی اورحکیم بن گئے۔

مجروح اردو غزل کے منفرد شاعر تھے۔ اُن کا شمار ترقی پسند شعراٴ میں ہوتا ہے۔ جگر مرادآبادی کو مجروح اپنا استاد مانتے تھے۔ مجروح نے اپنا پہلا فلمی گیت ’غم دئے مستقل ۔۔۔‘ 1945ء میں فلم شاہجہاں کے لیے تحریر کیا تھا۔ اسی نغمے نے مجروح کو فلمی نغمہ نگاروں کی پہلی صف میں لا کھڑا کیا۔ پھر مجروح کا یہ فلمی سفر پانچ دہائیوں تک چلتا رہا۔ البتہ مجروح کو یہ پسند نہیں تھا کہ ان کی شاعری کو فلم یا فلمی دنیا کے حوالے سے جانا جائے۔ وہ اپنی شاعری کو معاشرے میں پھیلی منافقت کا ردّعمل باور کرتے تھے۔
فلمی دنیا کی مقبول نغمہ نگاری اور اردو شاعری کی لازوال خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مجروح کو بھارت کے دو عظیم فنی ایوارڈوں ’’اقبال سمّان ایوارڈ‘‘ اور ’’دادا صاحب پھالکے ایوارڈ‘‘سے نوازا گیا۔

بعض ناقدین کے بقول مجروح ادبی شاعری پر توجہ دینے کے بجائے فلمی دنیا کی نذر ہوگئے۔  ان کا فلمی گیت لکھنے کا اپنا ایک خاص انداز تھا فلمی گیتوں میں بھی مجروح نے ادبی تقاضوں کو برقرار رکھا۔ ان کے فلمی نغموں کی مقبولیت آج بھی اسی طرح ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے فلم شاہ جہاں کے گیت لکھے جن کی ہر طرف دھوم مچ گئ  ان کا یہ گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتا ہے:

کتنا نازک ہے دل یہ نہ جانا ۔۔۔ ہائے ہائے یہ ظالم  زمانہ

مجروح کا گیت:جب دل ہی ٹوٹ گیا۔۔۔ ۔بے حد مقبول ہوا۔ اس گیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ  کے۔ ایل۔ سہگل کے جنازے کے ساتھ بجایا گیا۔

ان کے فلمی گیتوں میں خیالات کی نازکی سے بخوبی اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسے تخلیق کار کے قلم سے وجود میں آئے ہیں جوغزلیہ شاعری کا گہرا ادراک رکھتا ہے اور جس نے تمام رموز سامنے رکھ کر اپنے تجربات اشعار کے قالب میں ڈھالے ہیں۔

مجروح نے پچاس سال فلمی دنیا کو دیئے۔ انھوں نے300 سے بھی زائد فلموں میں ہزاروں گیت لکھے۔ ان کے سینکڑوں نغمے آج بھی ان کے شیدائیوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔

اک دن بک جائے گا ماٹی کے مول۔۔۔ ہمیں تم سے پیار کتنا۔۔۔ ان کے چند مشہور گیتوں میں سے ہیں۔

اردو غزل کا یہ البیلا شاعر 24 مئی 2000 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔