وحید مراد

 

آج 2 اکتوبر نامور پاکستانی فلمی اداکار، پروڈیوسر، اور  اسکرپٹ مصنف وحید مراد کی پیدائش کا دن ہے۔ وحید مراد 2 اکتوبر 1938 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کراچی گرامر اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد میں ایس ایم آرٹس کالج کراچی اور پھر کراچی یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ایم اے کیا۔

وحید مراد نے 1959 میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی وفات تک 115 اردو، 8 پنجابی اور ایک پشتو فلم میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ انہوں نے فلم ’’اولاد‘‘ سے فنی سفر کا آغاز کیا جس میں انہوں نے سپورٹنگ اداکار کا رول کیا۔ اس فلم کو نگار ایوارڈ بھی ملا۔ ان کی ہیرو شپ ان کی ذاتی فلم ہیرا اور پتھر سے شروع ہوئی۔ زیبا کے ساتھ فلم پروان نے وحید مراد کو بام عروج پر پہنچا دیا۔

وحید مراد ان چند گنے چنے لوگوں میں سے ایک تھے جو شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر محبوبیت کے درجہ تک پہنچے۔  انہوں نے جو بھی کردار کیا  اس میں ڈوب کر اداکاری کی۔ برصغیر میں دلیپ کمار کے بعد وہ دوسرے اداکار تھے جو نوجوان نسل میں بے حد مقبول ہوئے۔ رومانوی سین اور گیت پکچرائز کرانے کا وحید مراد کا انداز آج بھی انہیں منفرد رکھے ہوئے ہے اور وحید مراد اپنے پرستاروں کے دلوں میں آج بھی راج کرتے ہیں۔ رومانوی ہیرو وحید مراد نے اپنی فنی صلاحیتوں سے پاکستان فلم انڈسٹری پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑے کہ فلمی دنیا میں آج بھی انہیں رول ماڈل کی حیثیت حاصل ہے۔ شاندار رومانوی اداکاری کی وجہ سے وحید مراد چاکلیٹ ہیرو کے نام سے بھی مشہور ہوئے جب کہ لیڈی کلر کا خطاب بھی انہیں کے حصے میں آیا۔

وحید مراد کو ستارۂ امتیاز، لائف ٹائم اچیومنٹ اور نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی بہترین فلموں میں دل میرا دھڑکن تیری، ہیرا اور پتھر، ارمان، عندلیب، مستانہ ماہی، انسانیت، دیور بھابھی، دوراہا، ماں باپ، احسان، جہاں تم وہاں ہم، نصیب اپنا اپنا شامل ہیں۔ 23 نومبر   1983 کی صبح فلم انڈسٹری کا بے تاج بادشاہ دنیا سے رخصت ہوگیا۔ وحید مراد کی وفات کے 27 سال بعد نومبر 2010 میں انہیں ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔