انگریزی کے بدلتے ہوئے رنگ

 

انگریزی کے بدلتے ہوئے رنگ صرف یہیں تک محدود نہیں، اب تو کوئی صحیح انگلش میں جملہ لکھ جائے تو اس کی ذہنی حالت پر شک ہونے لگتا ہے، ماڈرن ہونے کے لئے انگریزی کا بیڑا غرق کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ میں تو کہتا ہوں انگریزی کی صرف ٹانگ ہی نہیں دانت بھی توڑ دینے چاہئیں، اس بدبخت نے ساری زندگی ہمیں خون کے آنسو رلایا ہے۔ تازی ترین اطلاعات کے مطابق اب انگریزی لکھنے کے لئے گرامر اور Tenses  بھی غیر ضروری ہوگئے ہیں۔ یعنی اگر کسی کو کہنا ہو کہ ’’میں تمہارا منتظر ہوں، تم کب ت آؤگے؟‘‘ تو بڑی آسانی سے اسے چٹکیوں میں یوں لکھا جاسکتا ہے m wtg u cm …. Shn!!?

دنیا مختصر سے مختصر ہوتی جارہی ہے۔ کمپیوٹر ڈیسک ٹاپ سے لیپ ٹاپ اور اب آئی پیڈ میں سما چکے ہیں۔ موٹے موٹے ٹی وی اب اسمارٹ ایل سی ڈی کی شکل  میں آگئے ہیں، ونڈو اے سی کی جگہ اسپلٹ اے سی نے لے لی ہے، انٹرنیٹ ایک چھوٹی سی USB میں سمٹ چکا ہے، ایسے میں انگریزی کو سب کے لئے قابل قبول بنانے کی اشد ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ اردو کا حل تو ’’رومن اردو‘‘ کی شکل میں بہت پہلے نکل آیا تھا، اب انگریزی کی مشکل بھی حل ہوگئی ہے۔ اب جو جتنی غلط انگریزی لکھتا ہے، اتنا ہی عالم فاضل خیال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو کسی دوست کی طرف سے میسیج آئے اور اس میں That کی بجائے Dat لکھا ہو تو بیہودہ سا قہقہہ لگانے کی بجائے ایک لمحے میں سمجھ جائیں کہ آپ کا دوست ایک ذہین اور دنیا دار شخص ہے جو جدید انگریزی کے تمام تر لوازمات سے واقف ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ شاید انگریزی میں اردو اور پنجابی کا تڑکا ہمارے ہاں ہی لگایا جاتا ہے لیکن میرا خیال غلط ثابت ہوا۔ سعودیہ میں مقیم میرا بھانجا بتارہا تھا کہ یہاں کے عربی بھی انگریزی کا شوق پورا کررہے ہوں تو جہاں جہاں انگریزی آنکھیں دکھاتی ہے وہاں یہ عربی کا لفظ ڈال لیتے ہیں۔ مثلاً اگر انگریزی میں کہنا ہو کہ ’’یہ میرا گھر ہے‘‘ تو بڑے آرام سے کہہ جاتے ہیں ’’ھذا مائی ہوم‘‘۔

انگریزی اتنی آسان ہوگئی ہے لیکن بڑے دکھ کے ساتھ بتانا پڑرہا ہے کہ یہ آسان انگریزی صرف ہماری عام زندگیوں میں ہی قابل قبول ہے، انگریزی کا مضمون پاس کرنے کے لئے تاحال اُسی جناتی انگریزی کی ضرورت ہے جو خود انگریزوں کو بھی نہیں آتی۔ پتا نہیں آج کل کی رنگ بدلتی انگریزی میں اب پرانی انگریزی کی کیا ضرورت رہ گئی ہے؟ پہلے کبھی لگتا تھا کہ ساری دنیا میں انگریزی کی اشد ضرورت ہے، دنیا سے رابطے کے لئے انگریزی بولنا اور لکھنا بہت ضروری ہے، لیکن اب تو لگتا ہے عالمی رابطے کے لئے کوئی نئی زبان ہی وجود میں آرہی ہے، یہ زبان کسی نے نہیں بنائی، نہ اس کے کوئی قواعد ہیں، بس یہ خودبخود بن گئی ہے اور لگ رہا ہے کہ کچھ عرصے تک باقاعدہ ایک شکل اختیار کرجائے گی۔ یہ زبان سب سمجھ سکتے ہیں، لکھ سکتے ہیں لیکن شاید بول کبھی نہیں سکیں گے کیونکہ یہ ’’شارٹ ہینڈ‘‘ کی وہ قسم ہے جو کسی کالج یا انسٹی ٹیوٹ میں نہیں پڑھائی جاتی۔ اس زبان میں خوبیاں تو بہت ہیں لیکن ایک کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی، یہ جذبات سے عاری زبان ہے، یہ چند لفظوں میں دو ٹوک بات کرنے کی عادی ہے، اس زبان میں کسی کی موت پر v sad لکھ دینا ہی کافی سمجھا جاتا ہے، یہ محبتوں اور احساسات سے محروم زبان ہے۔ میں یہ زبان کچھ کچھ سیکھ چکا ہوں، لیکن استعمال کرنے سے گھبراتا ہوں، پتا نہیں کیوں مجھے لگتا ہے اگر میں نے بھی یہ زبان شروع کردی تو مجھ میں اور روبوٹ میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔

(اقتباس از ناول گل نوخیز اختر)