شان الحق حقی


آج مورخہ 11 اکتوبر اردو زبان کے ممتاز ماہر لسانیات، محقق، نقاد، مترجم اور مدیر شان الحق حقی کی برسی ہے۔ شان الحق حقی 15 دسمبر 1917ء کو ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے، علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے اور سینٹ اسٹیفنز کالج سے ایم اے (انگریزی ادب) کی ڈگریاں حاصل کیں۔آپ مختلف علمی رسائل و جرائد کے مدیر رہے اور قومی محکمۂ اطلاعات، اشتہارات و مطبوعات و فلم سازی سے منسلک رہے۔ ترقی اردو بورڈ (کراچی) اور مقتدرہ قومی زبان کے لئے گراں قدر علمی خدمات انجام دیں۔ جدید آکسفورڈ اردو انگریزی ڈکشنری آپ ہی کی مرتب کردہ ہے۔ شان الحق حقی ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے لیکن اردو سے محبت سب پر حاوی تھی۔ زبان پر جو دسترس شان الحق حقی کو حاصل تھی وہ ملکہ کسی کسی کو حاصل ہوتا ہے۔ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود ہر سانس اردو کی خدمت کرتے رہے۔ آخری دنوں میں وہ آکسفورڈ پریس کے لئے اردو لغت پر کام کرتے رہے۔ 
تار پیراہن (منظومات)، نکتۂ راز (مضامین)، خیابانِ پاک، نشیدِ حریت، ارتھ شاستر (ترجمہ) اور انجان راہی آپ کی اہم کاوش ہیں۔ انجمن ترقی اردو پاکستان نے ’’میری تحریک‘‘ پر شان الحق حقی کو ان کی ادبی خدمات پر ’’نشان سپاس‘‘ 23 فروری 91ء کو پیش کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے حقی کو تمغہ قائد اعظم 68ء اور ستارۂ امتیاز 85ء میں عطا کئے۔
11 اکتوبر 2005ء کو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں آپ کا انتقال ہوا۔