سگریٹ

 

ارے یار! سگریٹ بھی کیا چیز ہے۔ جس نے بھی اسے ایجاد کیا، حد کردی۔ کیسا ایک ننھا سا رفیق زندگی کا آپ کے تنہا لمحوں میں کسی دوسرے کے موجود ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے اور اس کے دم سے آپ کبھی اکیلا محسوس نہیں کرتے، بلکہ وہ خود زندگی ہے جس کا ایک کنارہ زندگی ہی کی طرح دھیرے دھیرے سلگتا اور دوسرا موت کے منہ میں یا منہ کی موت میں پڑا ہوتا ہے۔ وہ آپ کے ہر سانس کے ساتھ جیتا اور مرتا ہوا خود راکھ ہوجاتا ہے لیکن آپ کے بکھرے ہوئے خیالوں کو ایک نقطے پر سمیٹ لاتا ہے۔ آپ چند ایسے راز سمجھ چکے ہوتے ہیں جن کے بعد اور کچھ سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔ لوگ کہتے ہیں اس سے کینسر ہوجاتا ہے، ہوا کرے۔ جو سگریٹ نہیں پیتے وہ کون سی خضر کی حیات جیتے ہیں؟ دنیا کے ہر بشر کو آخر کوئی نہ کوئی بہانہ تو موت کو دینا ہے، سگریٹ کا بہانہ کیوں نہ ہو۔

(راجندر سنگھ بیدی کے افسانے ’’صرف ایک سگریٹ‘‘ سے اقتباس)