ممتاز مفتی

 

آج مورخہ 27 اکتوبر اردو کے معروف ناول و افسانہ نگار ممتاز مفتی کی برسی ہے۔ ممتاز مفتی 11 ستمبر 1905 کو ضلع گورداس پور کے گاؤں بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مفتی ممتاز حسین تھا۔  1929 میں اسلامیہ کالج لاہور سے گریجویشن کیا، آل انڈیا ریڈیو سے منسلک رہے جبکہ 1947  میں فلم ’’رضیہ سلطانہ‘‘ لکھی۔ ممتاز مفتی ہفت روزہ استقلال میں بطور سب ایڈیٹر وابستہ رہے، مختلف اداروں میں خدمات سرانجام دینے کے بعد 1966 میں وزارت اطلاعات سے بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریٹائرڈ ہوئے۔

ممتاز مفتی کا پہلا افسانہ ’’جھکی جھکی آنکھیں‘‘ 1936 میں شائع ہوا اور قیام پاکستان سے قبل ان کے تین افسانوی مجموعے ’’ان کہی‘‘، ’’چپ‘‘ اور ’’گہما گہمی‘‘ منظر عام پر آچکے تھے۔ ان کے دیگر افسانوں میں ’’روغنی پتلے‘‘ اور ’’سمے کا بندھن‘‘ شامل ہیں  ’’علی پور کا ایلی‘‘ اور ’’الکھ نگری‘‘ سوانحی ناول میں شمار ہوتے ہیں جبکہ ’’ہند یاترا‘‘ ’’لبیک‘‘ جیسے سفرنامے بھی تحریر کئے اور خاکہ نگاری میں ’’اوکھے لوگ‘‘، ’’پیاز کے چھلکے‘‘ اور ’’تلاش‘‘ جیسی کتابوں کے خالق ہیں۔

ممتاز مفتی کا انتقال 27 اکتوبر 1995 میں اسلام آباد میں ہوا۔ اردو کے ایک بڑے افسانہ نگار کی حیثیت سے ممتاز مفتی کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ستارۂ امتیاز عطا کیا۔