بہادر شاہ ظفر

 

آج مورخہ 7 نومبر مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا یوم وفات ہے۔ ابوالمظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ غازی خاندان مغلیہ کے آخری بادشاہ اور اردو کے ایک بہترین اور مایہ ناز شاعر تھے۔ وہ اکبر شاہ ثانی کے بیٹے تھے اور ان کا سلسلہ گیارہویں پشت میں شہنشاہ بابر سے ملتا ہے۔ 1837 میں 63 سال کی عمر میں تخت پر بیٹھے۔ 1857 کی پہلی جنگ آزادی کے وقت بہادر شاہ ظفر 82 سال کے تھے۔

بہادر شاہ ظفر کے شعری ذوق کی تربیت قلعہ معلی کے صاف ستھرے اور خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ قلعہ معلی ان دنوں شعر و سخن کا مرکز تھا۔ بہادر شاہ ظفر کی سرپرستی میں شب و روز شعر و شاعری کی محفلیں گرم رہتی تھیں۔ شاہ نصیر، محمد ابراہیم ذوق، حکیم مومن خان مومن، مرزا اسد اللہ خاں غالب اور نواب مصطفی خان شیفتہ جیسے بلند پایہ شاعر ان محفلوں میں شریک ہوتے تھے۔ بہادر شاہ ظفر نے اگرچہ مختلف ادوار میں شاہ نصیر، محمد ابراہیم ذوق اور مرزا غالب جیسے اساتذہ فن سے اصلاح لی مگر انہوں نے اس میں کسی کا رنگ قبول نہ کیا۔  20 سالہ دورِ حکومت میں آپ نے مغلیہ دور کا زوال، وقت کی بے ثباتی، خونی رشتوں کی بے حسی دیکھی اور حالات کی نفسانفسی نے آپ کو ایک شکشت حال انسان اور سچا شاعر بنا ڈالا۔ انہی مصائب و آلام نے ان کے طرزِ تحریر کو مایوسانہ، بے بسی اور درویشانہ رنگ دیا۔ چار عدد دیوان کے اس شاعر نے زندگی کی حقیقت کو کچھ یوں بیان کیا ہے۔

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

اپنے آخری وقتوں میں جب وہ زنداں کے اندھیروں میں گم ہوگئے تو اس دور کا انداز کچھ یوں تھا:

میرا رنگ روپ بگڑ گیا، میرا یار مجھ سے بچھڑ گیا

جو چمن خزاں سے اجڑ گیا، میں اسی کی فصلِ بہار ہوں

یہ تاریخ ساز بادشاہ، سچا شاعر، درویش آدمی اور شکستہ انسان 7 نومبر 1862 کو رنگون میں کسمپرسی کی حالت میں قیدِ زندگی سے آزاد ہوگیا۔

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لئے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں