آج مورخہ 12 نومبر جدید اردو شاعری کے منفرد رومانی شاعر اختر الایمان، ممتازنغمہ نگار، فلمی کہانی نویس اور شاعر احمد راہی کا یوم پیدائش اور اردو کے صاحب اسلوب شاعر شکیب جلالی کا یوم وفات ہے۔ ذیل میں ہم ان تینوں شخصیات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔

 

اختر الایمان

 

اختر الایمان جدید اردو شاعری کے ایک منفرد رومانی شاعر ہیں۔ ان کے شعری تجربوں اور ان کی نظموں کی تکنیک نے ایک پوری نسل کو متاثر کیا ہے۔ 12 نومبر 1915 کو ضلع بجنور (اترپردیش) کی تحصیل نجیب آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا اور کچھ عرصے تک محکمہ سول سپلائز اور آل انڈیا ریڈیو دہلی میں کام کیا۔ بعد میں ممبئی چلے گئے جہاں تاحیات فلموں میں مکالمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ ان کی تصانیف میں ایک منظوم ڈرامہ بعنوان ’’سب رنگ‘‘ اور ایک خودنوشت سوانح ’’اس آباد خرابے میں‘‘ ہے۔ ان کے مجموعہ کلام ’’یادیں‘‘ کو 1962 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔ ان کا آخری مجموعہ کلام ان کے انتقال کے بعد ’’زمستان سرد مہری کا‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ساہتیہ اکیڈمی انعام کے علاوہ اختر الایمان کو بہت سے اعزازات ملے جن میں سوویت لینڈ قابل ذکر ہے۔ اختر الایمان نظم کے شاعر ہیں اور ان کی تقریباً تمام نظمیں ہیئت کے اعتبار سے آزاد یا معرا ہیں۔ انہوں نے جدید اردو نظم کو روشناس کرایا۔ اردو کی نئی نظم کے وہ آخری بڑے شاعر تھے۔ اختر الایمان کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے روایتی شعری عناصر سے خود کو دور رکھا۔ ان کی شاعری کو فکری لحاظ سے ’’اس عہد کا ضمیر‘‘ کہا گیا ہے۔ زبان و بیان اور اسلوب کی سطح پر اختر الایمان نے جدید اردو شاعری پر گہرا اثر ڈالا اور انہیں اقبال کے بعد پانچ سب سے بڑے شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں ’’یادیں‘‘، ’’سروسامان‘‘، ’’نیا آہنگ‘‘، ’’اب جو‘‘، ’’تاریک سیارہ‘‘ شامل ہیں۔ جدید اردو نظم کے بنیاد سازوں میں شامل، صف اول کے فلم مکالمہ نگار اختر الایمان9 مارچ 1996 کو عارضہ قلب کے باعث انتقال کرگئے۔

 

احمد راہی

 

’’سیونی میرا ماہی میرے بھاگ جگاون آگیا‘‘ جیسے گیت کے خالق ممتاز نغمہ نگار، فلمی کہانی نویس اور شاعر احمد راہی 12 نومبر 1923 کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام غلام احمد تھا۔ ابتدائی تعلیم امرتسر میں ہی حاصل کی۔ میٹرک کرنے کے بعد ایم اے او کالج میں داخلہ لیا مگر تعلیم مکمل نہ کرسکے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور آگئے۔ امرتسر میں ہی انہوں نے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو، شاعر سیف الدین سیف، کہانی نگار اے حمید کی صحبت میں رہتے ہوئے ادب میں دلچسپی لینا شروع کردی۔ لاہور سے شائع ہونے والے ادبی مجلے ’’سویرا‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ احمد راہی اعلیٰ پائے کے مصنف و مکالمہ نویس اور نغمہ نگار تھے۔ انہیں بیک وقت اردو اور پنجابی پر دسترس حاصل تھی۔ فلم پاکیزہ میں ملکہ ترنم نورجہاں کی مسحور کن آواز میں گایا ہوا یہ گیت ’’تم تو کہتے تھے بہار آئے گی تو لوٹ آؤنگا‘‘ فلم باجی کا نغمہ ’’بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے‘‘ اور فلم ہیر رانجھا میں ’’سن ونجلی دی مٹھری تان وے‘‘ ان کے مشہور نغمات ہیں۔ ان کی پنجابی شاعری کلام پر مشتمل کتاب ’’ترنجن‘‘ کا انگریزی ترجمہ آکسفورڈ یونیورسٹی پبلشر نے شائع کیا۔ حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ احمد راہی 9 ستمبر 2002 کو لاہور میں راہی ملک عدم ہوگئے۔

 

شکیب جلالی

 

اردو کے صاحب اسلوب شاعر شکیب جلالی یکم اکتوبر 1934 کو علی گڑھ کے قریب ایک قصبے جلالی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید حسن رضوی تھا۔ انہوں نے بدایوں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1950 میں وہ پاکستان آگئے اور سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا اور لاہور سے بی اے آنرز کی ڈگری لی۔ انہوں نے نہایت کم عمری میں شاعری شروع کردی تھی۔ ملازمتوں کے سلسلے میں وہ مختلف شہروں میں مقیم رہے۔ انہوں نے ایک رسالہ ’’جاوید‘‘ بھی نکالا کچھ عرصے بعد یہ بند ہوگیا اور پھر ’’مغربی پاکستان‘‘ نام کے سرکاری رسالے سے وابستہ ہوئے۔ 12 نومبر 1966 کو اردو کے صاحب اسلوب شاعر شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے سامنے کود کر خودکشی کرلی۔ مرنے کے بعد ان کی جیب سے کاغذ کا ٹکڑا ملا جس پر ان کا اپنا ہی ایک شعر لکھا ہوا تھا۔

 

تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں

آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ

 

شکیب جلالی نے صرف 32 برس کی عمر پائی۔ مگر انہوں نے اتنی کم مہلت میں جو شاعری کی وہ انہیں اردو غزل میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ شکیب جلالی ایک منفرد اسلوب کے شاعر تھے۔ انہوں نے بلاشبہ غزل کو ایک نیا لہجہ دیا۔ ان کا شعری مجموعہ ’’روشنی اے روشنی‘‘ ان کے ناگہانی انتقال کے چھ برس بعد 1972 میں لاہور سے شائع ہوا۔ 2004 میں لاہور ہی سے ان کے کلام کے کلیات بھی شائع ہوئی۔