کفن

(تحریر: منشی پریم چند)

(1)

جھونپڑیوں کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا دروازے سے پچھاڑے کھا رہی تھی اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ایسی دلخراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے۔ جاڑوں کی رات تھی۔ فضا سنّاٹے میں غرق سارا گاؤں تاریکی میں جذب ہوگیا تھا۔

گھیسو نے کہا ’’معلوم ہوتا ہے بچے گی نہیں۔ سارا دن تڑپتے ہوگیا۔ جا دیکھو تو آ‘‘۔ مادھو دردناک لہجے میں بولا۔ ’’مرنا ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی، دیکھ کر کیا آؤں‘‘۔ ’’ تُو بڑا بے درد ہے بے! سال بھر جس کے ساتھ جندگانی کا سُکھ بھوگا اس کے ساتھ اتنی بے وپھائی‘‘۔

’’تو مجھ سے تو اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا نہیں دیکھا جاتا‘‘۔

چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بدنام۔ گھیسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام۔ مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹہ بھر کام کرتا تو گھنٹہ بھر چلم پیتا اس لئے انہیں کوئی رکھتا ہی نہیں تھا۔ گھر میں مٹھی بھر اناج موجود ہو تو ان کے لئے کام کرنے کی قسم تھی۔ جب دو ایک فاقے ہوجاتے تو گھیسو درختوں پر چڑھ کر لکڑیاں توڑ لاتا اور مادھو بازار میں بیچ آتا اور جب تک وہ پیسے رہتے دونوں اِدھر اُدھر مارے پھرتے۔ جب فاقے کی نوبت آجاتی تو پھر لکڑیاں توڑتے یا کوئی مزدوری تلاش کرتے۔ گاؤں میں کام کی کمی نہ تھی۔ کاشت کاروں کا گاؤں تھا۔ محنتی آدمی کے لئے پچاس کام تھے مگر ان دونوں کو لوگ اس وقت بلاتے جب دو آدمیوں سے ایک کا کام پاکر قناعت کرلینے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا۔ کاش دونوں سادھو ہوتے تو دونوں قناعت اور توکل کے لئے ضبطِ نفس کی مطلق ضرورت نہ ہوتی۔ یہ ان کی خلقی صفت تھی۔ عجب زندگی تھی ان کی۔ گھر میں مٹی کے دو چار برتنوں کے سوا کوئی اثاثہ نہیں۔ پھٹے چیتھڑوں سے اپنی عریانی کو ڈھانکے ہوئے دنیا کے فکروں سے آزاد ، قرض سے لدے ہوئے گالیاں بھی کھاتے تھے مگر کوئی غم نہیں۔ مسکین اتنے کہ وصولی کی مطلق اُمید نہ ہونے پر بھی لوگ انہیں کچھ نہ کچھ قرض دے دیتے تھے۔ مٹر یا آلو کی فصل میں کھیتوں سے مٹر یا آلو اُکھاڑ لاتے اور بھون بھون کر کھاتے یا دس پانچ اوکھ توڑ لاتے اور راتوں کو چُوستے۔گھیسو نے اس زہدانہ انداز سے ساٹھ سال کی عمر کاٹ دی اور مادھو ایک سعادت مند بیٹے کی طرح باپ کے نقش قدم پر چل رہا تھا بلکہ اس کا نام اور بھی روشن کر رہا تھا۔ اس وقت بھی دونوں الاؤ کے سامنے بیٹھے آلو بُھون رہے تھے جو کسی کے کھیت سے کھود لائے تھے۔ گھیسو کی بیوی کا تو مدت ہوئی انتقال ہوگیا تھا مادھو کی شادی پچھلے سال ہوئی تھی۔ جب سے یہ عورت آئی تھی اس نے اس خاندان میں تمدن کی بنیاد ڈالی تھی۔ پسائی کرکے، گھاس چھیل کر وہ سیر بھر آٹے کا انتظام بھی کرلیتی تھی اور ان دونوں بے غیرتوں کا دوزخ بھرتی رہتی تھی جب سے وہ آئی یہ دونوں اور بھی آرام طلب اور آلسی ہوگئے تھے بلکہ کچھ اکڑنے بھی لگے تھے کوئی کام کرنے کو بلاتا تو بے نیازی کی شان سے دوگنی مزدوری مانگتے۔

گھیسو نے آلو نکال کر چھیلتے ہوئے کہا ’’جاکر دیکھ تو کیا حالت ہے اس کی، چڑیل کا پھساد ہوگا اور کیا؟ یہاں تو اوجھا بھی ایک روپیہ مانگتا ہے۔ کس کے گھر سے آئے‘‘۔

مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ کوٹھڑی میں گیا تو گھیسو آلوؤں کا بڑا حصّہ صاف کر دے گا۔ بولا ’’مجھے وہاں ڈر لگتا ہے‘‘۔

’’ڈر کس بات کا ہے؟ میں تو یہاں ہوں ہی‘‘۔

’’تو تم ہی جاکر دیکھو نا‘‘۔

’’میری عورت جب مری تھی تو میں تین دن اس کے پاس سے ہلا ہی نہیں اور پھر مجھ سے لجائے گی کہ نہیں۔ کبھی اس کا منہ نہیں دیکھا، آج اس کا اگھرا ہوا بدن دیکھوں۔ اسے تن کی سدھ بھی تو نہ ہوگی۔ مجھے دیکھ لے گی تو کھل کر ہاتھ پاؤں بھی نہ پٹک سکے گی‘‘۔

’’میں سوچتا ہوں کوئی بال بچہ ہوگیا تو کیا ہوگا۔ سونٹھ، گڑ، یہاں کچھ بھی تو نہیں ہے گھر میں‘‘۔

’’سب کچھ آجائے گا۔بھگوان بچہ دیں تو، جو لوگ ابھی ایک پیسہ نہیں دے رہے ہیں وہی تب بلا کردیں گے۔ میرے نو لڑکے ہوئے۔ گھر میں کبھی کچھ نہ تھا مگر اس طرح ہر بار کام چل گیا‘‘۔

جس سماج میں رات دن کام کرنے والوں کی حالت ان کی حالت سے کچھ بہت اچھی نہ تھی اور کسانوں کے مقابلے میں وہ لوگ جو کسانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھانا چاہتے تھے کہیں زیادہ فارغ البال تھے وہاں اس قسم کی ذہنیت کا پیدا ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں تھی ہم تو کہیں گے گھیسو کسانوں کے مقابلے میں زیادہ باریک بیں تھا اور کسانوں کی تہی دماغ جمعیت میں شامل ہونے کے بدلے شاطروں کی فتنہ پرداز جماعت میں شامل ہوگیا تھا۔ ہاں اس میں یہ صلاحیت نہ تھی کہ شاطروں کے آئین و ادب کی پابندی بھی کرتا اس لئے جہاں اس کی جماعت کے اور لوگ گاؤں کے سرغنہ اور مکھیا بنے ہوئے تھے۔ اس پر سارا گاؤں انگشت نمائی کرتا تھا۔ پھر بھی اسے یہ تسکین تو تھی ہی کہ اگر وہ خستہ حال ہے تو کم ازکم اسے کسانوں کی سی جگہ توڑ محنت تو نہیں کرنی پڑتی اور اس کی سادگی اور بے زبانی سے دوسرے بے جا فائدہ تو نہیں اُٹھاتے۔

دونوں آلو نکال نکال کر جلتے جلتے کھانے لگے۔ کل سے کچھ نہیں کھایا تھا اتنا صبر نہ تھا کہ انہیں ٹھنڈا ہوجانے دیں۔ کئی بار دونوں کی زبانیں جل گئیں۔ چھل جانے پر آلو کا بیرونی حصّہ تو بہت زیادہ گرم نہ معلوم ہوتا لیکن دانتوں کے تلے پڑتے ہی اندر کا حصّہ زبان اور حلق اور تالو کو جلا دیتا تھا اور اس انگار ے کو منہ میں رکھنے سے زیادہ خیریت اس میں تھی کہ وہ اندر پہنچ جائے وہاں اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے کافی سامان تھا اس لئے دونوں جلد جلد نگل جاتے حالانکہ اس کوشش میں ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔

گھیسو کو اس وقت ٹھاکر کی برات یاد آئی جس میں بیس سال پہلے وہ گیا تھا۔ اس دعوت میں اسے جو سیری نصیب ہوئی تھی وہ اس کی زندگی میں ایک یادگار واقعہ تھی اور آج بھی اس کی یاد تازہ تھی۔ بولا ’’وہ بھوج نہیں بھولتا جب سے پھر اس طرح کا کھانا اور بھر پیٹ نہیں ملا۔ لڑکی والوں نے سب کو پُوریاں کھلائی تھیں۔ سب کو چھوٹے بڑے سب نے پوڑیاں کھائیں اور اصلی گھی کی۔ چٹنی رائتہ تین طرح کے سُوکھے ساگ ایک رس دار ترکاری، دہی، چٹنی، مٹھائی۔ اب کیا بتاؤں کہ اس بھوج میں کتنا سواد ملا۔ کوئی روک نہیں تھی جو چیز مانگو جتنا چاہو کھاؤ۔ لوگوں نے تو ایسا کھایا کہ کسی سے پانی نہ پیا گیا مگر پروسنے والے ہیں کہ سامنے گرم گرم گول گول مہکتی کچوڑیاں ڈالے دیتے ہیں، منع کرتے ہیں کہ نہیں چاہیے پتل کو ہاتھ روکنے ہوئے ہیں مگر وہ ہیں کہ دیتے جاتے ہیں اور جب سب نے منہ دھولیا تو ایک ایک بیڑا پان بھی ملا۔ مگر مجھے پان لینے کی کہاں سدھ تھی۔ کھڑا نہ ہوا جاتا تھا جٹ پٹ گھر جا کر اپنے کمبل میں لیٹ گیا۔ ایسا دریا دل تھا وہ ٹھاکر‘‘۔

مادھو نے ان تکلفات کا مزہ لیتے ہوئے کہا۔ ’’اب ہمیں کوئی ایسا بھوج کھلاتا‘‘۔

’’اب کوئی کیا کھلائے گا، وہ جمانا دوسرا تھا۔ اب تو سب کو کھپایت سوجھتی ہے۔ سادی بیاہ میں مت کھرج کرو۔ کریا کرم میں مت خرچ کرو۔ پوچھو گریبوں کا مال بٹور کہاں رکھو گے؟ مگر بٹورنے میں تو کمی نہیں ہے، ہاں کھرچ میں کھپایت سوجھتی ہے‘‘۔

’’تم نے ایک بیس پوڑیاں کھائی ہوں گی؟‘‘

’’بیس سے جیادہ کھائی تھیں‘‘۔

’’میں پچاس کھا جاتا‘‘۔

’’پچاس سے کم میں نے بھی نہ کھائی ہوں گی۔ اچھا پٹھا تھا۔ تو اس کا آدھا بھی نہیں ہے‘‘۔

آلو کھا کر دونوں نے پانی پیا اور وہیں الاؤ کے سامنے اپنی دھوتیاں اوڑھ کر پاؤں پیٹ میں ڈالے سو رہے۔ جیسے دو بڑے اژدھے کنڈلیاں مارے پڑے ہوں۔

(2)

صبح کو مادھو نے کوٹھڑی میں جاکر دیکھا تو اس کی بیوی ٹھنڈی ہوگئی تھی اس کے منہ پر مکھیاں بھنک رہی تھیں۔ پتھرائی ہوئی آنکھیں اوپر ٹنگی ہوئی تھیں۔ سارا جسم خاک میں لت پت ہورہا تھا، اس کے پیٹ میں بچہ مرگیا تھا۔

مادھو بھاگا ہوا گھیسو کے پاس آیا۔ پھر دونوں زور زور سے ہائے ہائے کرنے اور چھاتی پیٹنے لگے۔ پڑوس والوں نے یہ آہ وزاری سنی تو دوڑے ہوئے آئے اور رسم قدیم کے مطابق غمزدوں کی تشفی کرنے لگے۔

مگر زیادہ رونے دھونے کا موقع نہ تھا۔ کفن کی اور لکڑی کی فکر کرنی تھی۔ گھر میں تو پیسہ اس طرح غائب تھا جیسے چیل کے گھونسلے سے ماس۔

باپ بیٹا روتے ہوئے گاؤں کے زمیندار کے پاس گئے وہ ان دونوں کی صورت سے نفرت کرتے تھے ، کئی بار انہیں اپنے ہاتھوں پیٹ چکے تھے۔ چوری کی علت میں، وعدہ پر کام نہ آنے کی علت میں۔ پوچھا ’’کیا ہے گھیسو! روتا کیوں ہے؟ اب تو تیری صورت ہی نظر نہیں آتی۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ تم اس گاؤں میں رہنا نہیں چاہتے‘‘۔

گھیسو نے زمین پر سر رکھ کر آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہا۔ ’’سرکار! بڑی بپت میں ہوں۔ مادھو کی گھر والی رات گجر گئی۔ دن بھر تڑپتی رہی۔ سرکار! آدھی رات تک ہم دونوں اس کے سرہانے بیٹھے رہے۔ دوا دارو جو کچھ ہوسکا سب کیا، مگر وہ ہمیں دگا دے گئی۔ اب کوئی ایک روٹی دینے والا نہیں رہا۔ مالک! تباہ ہوگئے۔ گھر اُجڑ گیا، آپ کا گلام ہوں اب آپ کے پاس آیا ہوں، اس کی مٹی کون پار لگائے گا؟ ہمارے ہاتھ میں تو جو کچھ تھا وہ سب دوا دارو میں اُٹھ گیا۔ سرکار ہی کی دیا ہوگی تو اس کی مٹی اُٹھے گی۔ آپ کے سوا اور کس کے دروازے پر جاؤں؟‘‘

زمیدار صاحب رحم دل آدمی تھے مگر گھیسو پر رحم کرنا کالے کھموں پر رنگ چڑھانا تھا۔ جی میں تو آیا کہہ دیں ’’چل دُور ہو یہاں سے۔ لاش گھر میں رکھ سڑا۔ یوں تو بلانے سے بھی نہیں آتا۔ آج جب غرض پڑی تو آکر خوشامد کر رہا ہے۔ حرام خور کہیں کا! بدمعاش!‘‘ مگر یہ غصّہ یا انتقام کا موقع نہیں تھا۔ طوعاً و کرہاً دو روپے نکال کر پھینک دیئے، مگر تشفی کا ایک کلمہ بھی منہ سے نہ نکلا۔ اس کی طرف تاکا تک نہیں۔ گویا سر کا بوجھ اُتار ہو۔

جب زمیندار صاحب نے دو روپے دیئے تو گاؤں کے بنیئے مہاجنوں کو انکار کی جرأت کیونکر ہوتی۔ گھیسو زمیندار کے نام کا ڈھنڈورا پیٹتا جاتا تھا۔ کسی نے دو آنے دیئے، کسی نے چار آنے۔ ایک گھنٹے میں گھسو کے پاس پانچ روپے کی معقول رقم جمع ہوگئی۔ کسی نے غلّہ دے دیا اور کسی نے لکڑی۔ اور دوپہر کو گھیسو اور مادھو بازار سے کفن لانے چلے۔ اُدھر لوگ بانس وانس کاٹنے لگے۔

گاؤں کی رقیق القلب عورتیں لاش آآ کر دیکھتی تھیں اور اس کی بے بسی پر دو بوند آنسو گرا کر چلی جاتی تھیں۔

(3)

بازار میں پہنچ کر گھیسو بولا ۔ ’’لکڑی تو اسے جلانے بھر کو مل گئی ہے۔ کیوں مادھو؟‘‘

مادھو بولا ’’ہاں لکڑی تو بہت ہے۔ اب کپھن چاہیئے‘‘۔ ’’تو کوئی ہلکا سا کپھن لے لیں‘‘۔

’’ہاں اور کیا۔ لاش اُٹھتے اُٹھتے رات ہوجائے گی۔ رات کو کپھن کون دیکھتا ہے؟‘‘

’’کیسا بُرا رواج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانکنے کو چیتھڑا بھی نہ ملے اسے مرنے پر نیا کپھن چاہیئے‘‘۔

’’کپھن لاش کے ساتھ جل ہی تو جاتا ہے‘‘۔

’’اور کیا رکھا ہے ۔ یہی پانچ روپے ملتے تو کیا کچھ دوا دارو کرتے‘‘۔

دونوں ایک دوسرے کے دل کا ماجرا مخفی طور پر سمجھ رہے تھے بازار میں اِدھر اُدھر گھومتے رہے یہاں تک کہ شام ہوگئی۔ دونوں اتفاق سے یا عمداً ایک شراب خانے کے سامنے آ پہنچے اور گویا کسی طے شدہ فیصلے کے مطابق اندر گئے وہاں ذرا دیر تک دونوں تذبذب کی حالت میں کھڑے رہے پھر گیسو نے ایک بوتل شراب لی کچھ گزک اور دونوں برآمدے میں بیٹھ کر پینے لگے۔

کئی کجیاں پیہم پینے کے بعد دونوں سرور میں آگئے۔

گھیسو بولا۔ ’’کپھن لگانے سے کیا ملتا ہے؟ آکھر جل ہی تو جاتا۔ کچھ بہو کے ساتھ تو نہ جاتا‘‘۔

مادھو آسمان کی طرف دیکھ کر بولا، گویا فرشتوں کو اپنی معصومیت کا یقین دلا رہا ہو۔ ’’دنیا کا دستور ہے لوگ بامنوں کو ہجاروں روپے کیوں دے دیتے ہیں؟ کون دیکھتا ہے پرلوک میں ملتا ہے یا نہیں؟‘‘

’’بڑے آدمیوں کے پاس دھن ہے پھونکیں۔ ہمارے پاس پھونکنے کوکیا ہے؟

’’لیکن لوگوں کو جواب کیا دو گے؟ لوگ پوچھیں گے نہیں کپھن کہاں ہے؟‘‘

گھیسو ہنسا۔ ’’کہہ دیں گے روپے کمر سے کھسک گئے، بہت ڈھونڈا ملے نہیں‘‘۔

مادھو بھی ہنسا۔ اس غیر متوقع خوش نصیبی پر قدرت کو اس طرح شکست دینے پر بولا۔ ’’بڑی اچھی تھی بچاری۔ مری بھی تو خوب کھلا پلا کر‘‘۔

آدھی سے زیادہ بوتل ختم ہوگئی۔ گھیسو نے دو سیر پوڑیاں منگوائیں، گوشت کا سالن اور چٹ پٹی کلیجیاں اور تلی ہوئی مچھلیاں۔ شراب خانے کے سامنے ہی دکان تھی۔ مادھو لپک کر دو پتیلیوں میں ساری چیزیں لے آیا۔ پورے ڈیڑھ روپے خرچ ہوگئے۔ صرف تھوڑے سے پیسے بچ رہے۔

دونوں اس وقت اس شان سے بیٹھے ہوئے پوڑیاں کھا رہے تھے جیسے جنگل میں کوئی شیر اپنا شکار اُڑا رہا ہو۔ نہ جواب دہی کا خوف تھا نہ بدنامی کی فکر۔ ضعف کے ان مراحل کو انہوں نے بہت پہلے طے کرلیا تھا۔ گھیسو فلسفیانہ انداز سے بولا۔ ’’ہماری آتما پرسن ہورہی ہے تو کیا اسے پن نہ ہوگا؟‘‘

مادھو نے فرطِ عقیدت جھکا کر تصدیق کی۔ ’’جرور سے جرور ہوگا۔ بھگوان تم انترجامی و علیم ہو، اسے بیکنٹھ لے جانا۔ ہم دونوں ہردے سے اسے دعا دے رہے ہیں آج جو بھوجن ملا وہ کبھی عمر بھر نہ ملا تھا۔

ایک لمحے کے بعد مادھو کے دل میں ایک تشویش پید اہوئی۔ ’’کیوں دادا! ہم لوگ بھی تو ایک نہ ایک دن وہاں جائیں گے ہی‘‘۔

گھیسو نے اس طفلانہ سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ مادھو کی طرف ملامت انداز سے دیکھا۔

’’جو وہاں ہم لوگوں سے وہ پوچھے گی کہ تم نے ہمیں کپھن کیوں نہیں دیا تو کیا کہو گے؟‘‘

’’کہیں گے تمہارا سر‘‘۔

’’پوچھے گی تو جرور‘‘۔

’’تُو کیسے جانتا ہے اسے کپھن نہ ملے گا؟ تُو مجھے ایسا گدھاسمجھتا ہے۔ میں ساٹھ سال دنیا میں کیا گھاس کھودتا رہا ہوں، اس کو کپھن ملے گا اور اس سے بہت اچھا ملے گا جو ہم دیتے‘‘۔

مادھو کو یقین نہ آیا۔ بولا ’’کون دے گا؟ روپے تو تم نے چٹ کر دیئے‘‘۔

گھیسو تیز ہوگیا۔ ’’میں کہتا ہوں اسے کپھن ملے گا۔ تُو مانتا نہیں‘‘۔

’’کون دے گا؟ بتاتے کیوں نہیں؟‘‘

’’وہی لوگ دیں گے جنہوں نے اب کی دیا۔ ہاں وہ روپے ہمارے ہاتھ نہ آئیں گے اور اگر کسی طرح آجائیں تو پھر ہم اسی طرح یہاں بیٹھے پئیں گے اور کپھن تیسری بار ملے گا‘‘۔

جوں جوں اندھیرا بڑھتا تھا اور ستاروں کی چمک تیز ہوتی گئی۔ مے خانے کی رونق بھی بڑھتی جاتی تھی۔ کوئی گاتا، کوئی بہکتا تھا کوئی اپنے رفیق کے گلے لپٹا جاتا تھا۔ کوئی اپنے دوست کے منہ میں ساغر لگائے دیتا تھا۔ وہاں کی فضا میں سرور تھا۔ ہوا میں نشہ، کتنے تو چُلّو میں اُلّو ہوجاتے ہیں۔ یہاں آتے تھے صرف خود فراموشی کا مزہ لینے کے لئے۔ شراب سے زیادہ یہاں کی ہوا سے مسرور ہوتے تھے۔ ذیست کی بلا یہاں کھینچ لاتی تھی اور کچھ دیر کے لئے وہ بھول جاتے تھے کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ ہیں، یا زندہ درگور ہیں۔ اور یہ دونوں باپ بیٹے اب بھی مزے لے لے کر چسکیاں لے رہے تھے سب کی نگاہیں ان کی طرف جمی تھیں کتنے خوش نصیب ہیں دونوں۔ پوری بوتل بیچ میں ہے۔ کھانے سے فارغ ہوکر مادھو نے بچی ہوئی پوریوں کا پتل اُٹھا کر ایک بھکاری کو دے دیا جو کھڑا ان کی طرف گرستہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور ’’پینے‘‘ کے غرور، ولولہ کا اپنی زندگی میں پہلی بار احساس کیا۔

گھیسو نے کہا ’’لے جا، کھُوب کھا اور آسیر باد دے۔ جس کی کمائی ہے وہ تو مرگئی، مگر تیرا آسیرباد اسے ضرور پہنچ جائے گا۔ روئیں روئیں سے آسیر باد دے۔ بڑی گاڑھی کمائی کے پیسے ہیں‘‘۔

مادھو نے پھر آسمان کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’بیکنٹھ میں جائے گی دادا! بیکنٹھ کی رانی بنے گی۔

گھیسو کھڑا ہوگیا اور جیسے مسرت کی لہروں میں تیرتا ہوا بولا۔ ’’ہاں بیٹا! بیکنٹھ میں جائے گی، کسی کو ستایا نہیں۔ کسی کو دبایا نہیں۔ مرتے وقت ہماری جندگی کی سب سے بڑی لالسا پوری کرگئی۔ وہ نہ بیکنٹھ میں جائے گی تو کیا یہ موٹے موٹے لوگ جائیں گے جو گریبوں کو دونوں ہاتھ سے لوٹتے ہیں اور اپنے پاپ کو دھونے کے لئے گنگا میں نہاتے ہیں اور مندر میں جل چڑھاتے ہیں۔

یہ خوش اعتقادی کا دن بدلا۔ تلون نشہ کی خاصیت ہے یاس اور غم کا دورہ ہوا۔مادھو بولا۔ ’’مگر دادا !بچاری نے جندگی میں بڑا دکھ بھوگا۔ مری بھی کتنا دکھ جھیل کر‘‘۔ دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھ کر رونے لگا۔

گھیسو نے سمجھایا۔’’کیوں روتا ہے بیٹا! کھس ہو کہ وہ مایا جالی سے مکت ہوگئی، جنجال سے چھوٹ گئی۔ بڑی بھاگوان تھی جو اتنی جلدی مایا موہ کے بندھن توڑ دیئے‘‘۔ اور دونوں وہیں کھڑے ہوکر گانے لگے۔

’’ٹھگن کیوں نینا جھمکاوے ٹھگن‘‘

سارا مے خانہ محو تماشا تھا اور یہ دونوں میکش محویت کے عالم میں گائے جاتے تھے پھر دونوں ناچنے لگے، اچھلے بھی، کودے بھی، گرے بھی، مٹکے بھی، بھاؤ بھی بتائے اور آخر نشہ سے بدمست ہوکر وہیں گِر پڑے۔

*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*