سلام مچھلی شہری

 

آج مورخہ 19 نومبر رومانی لہجے کے ممتاز شاعر سلام مچھلی شہری کا یوم وفات ہے۔ ان کا اصل نام عبدالسلام اور تخلص سلام تھا۔ سلام مچھلی شہری یکم جولائی 1921 کو مچھلی شہر، ضلع جون پور (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ پہلے قرآن حفظ کرایا گیا۔ 1935 میں ڈسٹرکٹ بورڈ اور مڈل اسکول سے آٹھویں درجے کا امتحان دیا اور اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے سے نظم و نثر لکھنے لگے تھے۔ ملازمت کا آغاز الہٰ آباد یونیورسٹی کے کتب خانے سے ہوا۔ 1943 میں آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔ اس دوران وہ لکھنو یونیورسٹی کے اردو رسالہ ’’ضراب‘‘ کے مدیر اعزازی مقرر ہوئے۔ بعد ازاں دلی تبادلہ ہوا۔ یہاں شروع میں اردو مجلس کے شعبے میں رہے۔ عمر کے آخری ایام میں ’’اردو سروس‘‘ میں پروڈیوسر کے عہدے پر فائز تھے۔  سلام مچھلی شہری کی طبیعت میں خلاقی کا جوہر نمایاں تھا۔ نظم میں کئی تجربے کئے، رومانی اور ترقی پسند شاعروں میں نام پیدا کیا۔ ان کا کلام سادہ لیکن موثر ہے۔ ہندی الفاظ کا استعمال بڑی خوبی سے کرتے تھے۔ ان کے کلام کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کی اصناف ادب شاعری اور ذیلی اصناف نظم، غزل اور قطعہ ہیں۔ آپ کی کئی غزلیں مشہور گلوکار جگجیت سنگھ نے گائی ہیں۔ فیض، مزاج، ساحر لدھیانوی کے ساتھ اردو ادب کا ایک نیا جہان آباد کیا۔ 1996 میں اردو اکیڈمی نے آپ کی شاعری پر مشتمل کتاب شائع کی جس کا نام ’’انتخاب سلام مچھلی شہری‘‘ ہے۔ آپ کی یہ مشہور غزل جسے جگجیت سنگھ نے بڑی خوبصورتی سے گایا اور عوام و خواص میں بے حد مقبول ہوئی۔

 

بہت دنوں کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ فضا کو یاد بھی نہیں

یہ بات آج کی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت دنوں کی بات ہے

 

انہیں یرقان اور جگر کا کینسر ہوگیا تھا۔ 19 نومبر 1973 کو نئی دہلی میں اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔ 1973 کے یوم جمہوریت کے موقع پر انہیں اردو خدمات کے اعتراف میں ’’پدم شری‘‘ کا اعزاز دیا گیا۔ ان کی تصانیف میں ’’میرے نغمے، وسعتیں، پائل (گیتوں کا مجموعہ)، بازو بند کھل کھل جائے (ناولٹ) شامل ہیں۔