بانو قدسیہ

 

آج مورخہ 28 نومبر اردو ادب کو نیا اسلوب دینے والی معروف ادیبہ اور معروف ادیب اور ڈرامہ نگار اشفاق احمد کی اہلیہ بانو قدسیہ کا یوم پیدائش ہے۔ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو مشرقی پنجاب کے شہر فیروز پور میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔ ان کے والد زراعت میں بیچلر کی ڈگری رکھتے تھے اور ان کا انتقال بانو قدسیہ کی چھوٹی عمر میں ہی ہوگیا۔ تقسیم پاکستان کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آگئیں۔ انہوں نے لاہور کے کنیئرڈ کالج برائے خواتین سے گریجویشن کیا اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران انہوں نے اشفاق احمد سے شادی کی

بانو قدسیہ صرف ایک ناول نگار ہی نہیں بلکہ ایک دانشور بھی ہیں۔ انہوں نے ٹیلی وژن اور اسٹیج کے لئے اردو اور پنجابی میں ڈرامے بھی لکھے۔ وہ ادبی ناول نگاری میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ بانو قدسیہ کو بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا۔ وہ جب پانچویں جماعت میں پڑھتی تھیں تو انہوں نے پہلی کہانی لکھی اور آٹھویں جماعت میں پہنچیں تو پہلا ڈرامہ تحریر کیا جو پورے پنجاب میں پہلے نمبر پر آیا۔ انہوں نے ناول نگاری کا آغاز گورنمنٹ کالج سے کیا۔

انہوں نے متعدد افسانے، ناول اور ڈرامے لکھے۔  ان کا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ اردو زبان میں ایک ایسا حیرت انگیز تجربہ ہے جو آئندہ لکھنے والوں کے لئے سوچ کی نئی راہیں کھولے گا۔  ان کے ایک ڈرامے ’’آدھی بات‘‘ کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔‘‘ بانو قدسیہ کی دیگر مشہور کتابوں میں ’’آتش زیرپا، مرد ابریشم، آدھی بات، ایک قدم، امربیل، آسے پاسے، بازگشت، چرار چمن، دست بستہ، دوسرا دروازہ، دوسرا قدم، فٹ پاتھ کی گھاس، حاصل گھاٹ، ہوا کے نام، کچھ اور نہیں، موم کی گلیاں، ناقابل ذکر، پیا نام کا دیا، پروا، پروا کا ایک دن، شہر بے مثال، سورج مکھی، تماثیل، توجہ کی طالب‘‘ کے علاوہ دیگر کتب شامل ہیں۔

1984 میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔