آج مورخہ 5 دسمبر اردو ادب کی تاریخ کا اہم دن ہے۔ آج شاعر انقلاب کا اعزاز پانے والے شاعر جوش ملیح آبادی، مشہور شاعر جگن ناتھ آزاد کا یوم پیدائش ، ممتاز ادیب، مزاح نگار پطرس بخاری اور ممتاز شاعر مجاز لکھنوی کا یوم وفات ہے۔ ذیل میں ہم ان شخصیات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔

 

جوش ملیح آبادی

 

شاعر انقلاب کا اعزاز پانے والے جوش ملیح آبادی کا اصل نام شبیر حسن خان تھا۔ آپ 5 دسمبر 1898 کو ملیح آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1914 میں سینئر کیمبرج کا امتحان پاس کیا اس کے بعد انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی، پھر چھ ماہ ٹیگور یونیورسٹی میں گزارے۔ 1925 میں جوش نے عثمانیہ یونیورسٹی میں ترجمے کا کام شروع کیا۔ انہوں نے نظام حیدر آباد کے خلاف ایک نظم لکھی جس پر انہیں ریاست حیدر آباد سے نکال دیا گیا۔ نظم ’’حسین اور انقلاب‘‘ لکھنے پر انہیں ’’شاعر انقلاب‘‘ کا اعزاز دیا گیا۔ وہ برطانوی استعمار کے سخت مخالف تھے۔ 1958 میں وہ پاکستان آگئے۔

جوش کو نہ صرف اپنے مادری زبان بلکہ ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی زبان میں بھی عبور حاصل تھا۔ اپنی اسی خداداد صلاحیتوں کے وصف سے آپ نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپور علمی معاونت کی۔ آپ نے انجمن ترقی اردو کراچی اور دار الترجمہ (حیدر آباد) میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔ جوش صرف مرثیہ نگاری کا ہی آفتاب نہیں بلکہ نظم اور غزل میں بھی جوش نے اپنا کوئی ثانی نہیں چھوڑا۔

جوش ملیح آبادی کے شعری مجموعوں اور تصانیف میں ’’روح ادب، آوازہ حق، شاعر کی راتیں، جوش کے سو شعر، نقش و نگار، شعلہ و شبنم، پیغمبر اسلام، فکر و نشاط، جنوں و حکمت، حرف و حکایت، حسین اور انقلاب، آیات و نغمات، عرش و فرش، رامش و رنگ، سنبل و سلاسل، سیف و سبو، سرور و خروش، وموم و سبا، طلوع فکر، موجد و مفکر، قطرہ قلزم، نوادر جوش، الہام و افکار، نجوم و جواہر، جوش کے مرثیے، عروس ادب (حصہ اول و دوم)، عرفانیات جوش، محراب و مضراب، دیوان جوش، مقالات جوش،  اوراق  زریں، جذبات فطرت، اشارات، مقالات جوش، مکالمات جوش، یادوں کی بارات (خودنوشت سوانح) وغیرہ شامل ہیں۔

22 فروری 1982 کو شاعری کے آسمان کا یہ آفتاب غروب ہوگیا۔ انہوں نے اپنی شاعری کا جو خزانہ چھوڑا وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ سخن ور ہمیشہ اس خزانے سے مستفید ہوتے رہیں گے۔

 

پطرس بخاری

 

گلشن اردو ادب میں طنز و مزاح کے رنگارنگ پھول کھلانے والے ممتاز ادیب، مزاح نگار اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے سفیر پطرس بخاری کا اصل نام سید احمد شاہ بخاری تھا، وہ یکم اکتوبر 1898 کو پشاور میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم پشاور میں حاصل کی، ایف اے کرنے کے بعد لاہور آگئے، انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور اول پوزیشن حاصل کی پھر کیمبرج یونیورسٹی سے علمی اعزاز کے ساتھ آنر کیا۔ آغاز میں سینٹرل ٹریننگ کالج میں پروفیسر مقرر ہوئے، اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی کے پروفیسر بن گئے۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ وہ کالج کے ادبی مجلے ’’راوی‘‘ کے ایڈیٹر بھی رہے۔ سات برس تک ریڈیو سے بطور کنٹرولر جنرل منسلک رہے۔ پطرس بخاری کو 1949 میں اقوام متحدہ میں پاکستان کا نمائندہ مقرر کیا گیا۔ وہ 1954 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

پطرس بخاری کا شمار پاکستان کے صف اول کے مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ مغربی ادبیات کا مطالعہ وسیع تھا جس سے اپنے مضامین میں انہوں نے کافی استفادہ کیا۔  انہوں نے انگریزی ادب کے شاہکار مضامین کا اردو میں ترجمہ کیا۔  پطرس نے اردو مزاح نگاری میں فطری انداز پیدا کیا۔ واقعات کے بیان میں مزاح کے فطری پہلو نکال لیتے تھے۔ ان کے مزاح میں طنز کا رنگ بہت مدھم ہے۔ انہوں نے کردار نگاری میں بھی کمال دکھایا۔ پطرس کا ایک امتیازی وصف ان کا اسلوب بیان ہے۔

پطرس بخاری 5 دسمبر 1958 کو نیویارک میں انتقال فرماگئے۔ ان کی خدمات کے صلے میں بعد از وفات حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز عطا کیا گیا۔

 

جگن ناتھ آزاد

 

جگن ناتھ آزاد 5 دسمبر 1918 کو عیسیٰ خیل ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے جو اب پاکستان میں ہے۔ ان کے والد تلوک چند محروم اردو کے مشہور و معروف شاعر تھے۔ آزاد کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی اپنے والد کے ہاتھوں ہوئی۔ جگن ناتھ آزاد نے 1933 میں میانوالی سے میٹرک اور1937 میں گارڈن کالج راولپنڈی سے بی اے کیا۔ اس کے بعد وہ لاہور آگئے۔  یہاں سے 1942 میں فارسی آنرز کیا اور 1944 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فارسی میں ایم اے کیا۔ جگن ناتھ آزاد کی ادبی زندگی کا باضابطہ آغاز لاہور سے ہی ہوتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور سے دہلی منتقل ہوگئے۔ قیام پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان سے ان کا لکھا ہوا قومی ترانہ نشر کیا گیا۔  ان کے شعری مجموعوں کا نام ’’طبل و علم‘‘ ، ’’بیکراں‘‘ ہے۔ جگن ناتھ آزاد بیک وقت شاعر، ادیب، صحافی، مترجم اور نثرنگار ہیں۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی لیکن اردو ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔

جگن ناتھ آزاد 24 جولائی 2004 کو انتقال کرگئے۔

 

مجاز لکھنوی

 

مجاز لکھنوی 19 اکتوبر 1911 کو قصبہ رودولی ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ اصل نام اسرار الحق اور مجاز تخلص اختیار کیا۔  حصول تعلیم کے لئے لکھنو آئے اور یہاں سے ہائی اسکول پاس کیا۔ لکھنو کی مخصوص تہذیب اور شعر و ادب کی سرزمین ہونے پر ان کو لکھنو سے اس قدر لگاؤ ہوا کہ اپنے تخلص میں لکھنو جوڑ لیا اور مجاز لکھنوی کے نام سے مشہور و معروف ہوئے۔ 1935 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کرکے 1936 میں دہلی ریڈیو اسٹیشن سے شائع ہونے والے ’’آواز‘‘ کے پہلے مدیر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ کچھ عرصہ تک ممبئی انفارمیشن  ڈپارٹمنٹ میں بھی کام کیا اور پھر لکھنو آکر ’’نیا ادب‘‘ اور ’’پرچم‘‘ کی ادارت کی۔ اس کے بعد دہلی میں ہارڈنگ لائبریری سے وابستہ ہوگئے۔ مگر ان کی افتاد طبیعت نے ملازمت کی پابندیاں برداشت نہ کیں اور اپنے کو پورے طور پر شاعری کے لئے وقف کردیا۔ مجاز کی شاعری کو سمجھنے کے لئے 1857 کے انقلاب (ہماری آزادی کی پہلی جنگ) سے واقفیت ضروری ہے۔ جس نے ملک کو نہ صرف خواب غفلت سے بیدار کیا بلکہ ہر شعبہ زندگی کو متاثر بھی کیا۔  محکمہ اطلاعات میں فرائض منصبی سرانجام دینے کے دوران وہ لکھنو کے ادبی حلقوں میں مشہور ہوگئے۔ وہاں کے سرگرم رکن رہنے کے بعد کچھ عرصہ تک مجاز فلمی دنیا سے بھی وابستہ رہے۔ ان کی نظمیں چند مشہور فلموں میں لے لی گئیں جو ان کی شہرت کا باعث بنیں۔ 1930 میں ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ کلام ’’آہنگ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔  مجاز کی شاعری میں پیغام عمل  اور فرسودہ و جارحانہ غیر ملکی حکومت سے سرکشی اور بغاوت کے آثار نمایاں تھے۔ اپنی عشقیہ شاعری میں قلبی واردات اور احساسات کو دلکش و موثر انداز میں پیش کیا۔ ان کی انقلابی شاعری اور قومی شاعری موضوعات پر نظمیں ہماری تحریک آزادی، امنگوں اور ولولوں سے سرشار ہیں۔ ان کی سب سے بہترین نظم ’’آوارہ‘‘ ہے جس کے چند بند 1953 میں بنی فلم ’’ٹھوکر‘‘ میں مشہور گلوکار طلعت محمود کی مخملی اور جادوئی آواز آج بھی سننے والوں کو مسحور کردیتی ہے۔ ان کی ایک اور نظم ’’نذر علی گڑھ‘‘ ہے جو مشہور دانش گاہ مسلم یونیورسٹی کے ترانے میں شامل ہے۔

5 دسمبر 1956 کو آپ اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔