آج مورخہ 6 دسمبر عالمی شہرت یافتہ قوال عزیز میاں اور ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم کی برسی ہے۔ ذیل میں ان دونوں شخصیات کا مختصر تعارف پیش ہے۔

 

عزیز میاں قوال

 

آج مورخہ 6 دسمبر پرائیڈ آف پرفارمنس، عالمی شہرت یافتہ پاکستان کے مشہور قوال عزیز میاں کی برسی ہے۔

’’اللہ ہی جانے کون بشر ہے، یانبی یانبی، تیری صورت، شرابی میں شرابی اور 115 منٹ کی طویل قوالی حشر کے روز یہ پوچھوں گا‘‘ جیسی عالمی شہرت یافتہ قوالیوں کے خالق عزیز میاں قوال 17 اپریل 1942 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام عبدالعزیز تھا اور ’’میاں‘‘ ان کا تکیہ کلام تھا جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا اور عزیز میاں قوال کے نام سے مشہور ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ہجرت کرکے پاکستان آئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی۔ استاد عبدالوحید سے فن قوالی سیکھنے کے بعد عزیز میاں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فارسی، اردو اور عربی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور قوالی کے شعبے کا چناؤ کیا۔ عزیز میاں کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ انہوں نے اپنی گائی گئی زیادہ تر قوالیوں کی شاعری خود تخلیق کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے علامہ اقبال، صادق اور قتیل شفائی کا کلام بھی بارہا گایا۔ عزیز میاں اپنے منفرد بھاری بھرکم بارعب انداز گائیکی کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر کے کئی دیگر ممالک میں انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے اور جانے پہچانے جاتے تھے۔ ان کا شمار قدرے روایتی قوالوں میں ہوتا تھا، ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی، وہ نہ صرف عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے۔ اپنے ابتدائی دور میں انہیں فوجی قوال کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کے لئے تھیں۔ عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔ ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لئے ہوئے تھیں گوکہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔ حکومت پاکستان نے عزیز میاں قوال کو 1989 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا۔ 1966 میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے یادگار پرفارمنس پر انعام و اکرام اور گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ 

عزیز میاں کا انتقال6 دسمبر 2000 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں یرقان کے باعث ہوا۔ انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی برسی کے موقع پر ایرانی حکومت نے قوالی کے لئے مدعو کیا تھا۔ ان کی تدفین آبائی قبرستان ملتان میں کی گئی۔

 

روشن آرا بیگم

 

آج مورخہ 6 دسمبر ملکہ موسیقی کا خطاب پانے والی روشن آرا بیگم کی برسی ہے۔ روشن آرا بیگم کا اصل نام وحید النسا بیگم تھا۔ وہ 1917 میں کلکتہ میں استاد عبدالحق خان کے گھر پیدا ہوئیں، ان کا تعلق ایک موسیقی دان گھرانے سے تھا۔ ابتدائی مشق ان کی والدہ چندا بیگم نے کرائی پھر استاد لڈن خان سے موسیقی کے اسرار و رموز سیکھے۔ اسی زمانے میں فلموں میں بھی کام کیا۔ پھر کیرانہ گھرانے کے استاد عبدالکریم خان کی شاگردی اختیار کی اور کیرانہ گھرانے کی سب سے ممتاز نمائندہ بن گئیں۔  قیام پاکستان کے بعد روشن آرا بیگم ریڈیو پاکستان لاہور سے گاہے بہ گاہے موسیقی کے پروگرام کرتی رہیں۔ روشن آرا بیگم نے ’’پہلی نظر، جگنو، قسمت، روپ متی باز بہادر، نیلا پربت‘‘ سمیت سینکڑوں فلموں میں پلے بیک سنگر کے طور پر انتہائی خوبصورت نغمات ریکارڈ کرائے جنہوں نے ان فلموں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

روشن آرا بیگم کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے نوازا۔

کلاسیکل موسیقی کی یہ عظیم گلوکارہ 6 دسمبر 1982 کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئیں۔