ماں

 

’’ماں اور خدا وہ ہستیاں ہیں جن کی محبت، رحمت اور شفقت بے حساب ہوتی ہے۔ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کے احکامات کی روز نافرمانی ہوتی ہے۔ لوگ اس کی ذات کو ماننے سے انکاری ہوتے ہیں مگر کیا وہ انہیں روزی دینا بند کردیتا ہے؟ کیا چشمے سوکھ جاتے ہیں؟ کیا اناج کا قحط پڑجاتا ہے؟ نہیں نا! وہ اپنے نافرمان بندوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ خدا جب بھی کسی چیز کو واضح کرنا چاہتا ہے تو وہ انتہائی خوبصورت تشبیہات کا استعمال کرتا ہے۔ قرآن میں جنت و جہنم، عذاب و ثواب، ہر شے کو مثال دے کر واضح کیا گیا ہے مگر جب بات آتی ہے بنی انسان سے محبت واضح کرنے کی، وہ فوراً کہتا ہے میں ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا ہوں۔ اللہ کسی اور کی مثال دیتا، شوہر کی محبت، بھائی کی محبت، بہن کی محبت، بیوی کی محبت، دوستوں، قرابت داروں کی محبت سے اپنی محبت کا موازنہ کرتا مگر نہیں ، اس نے ماں کی مثال دی کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ بے غرض، بے لوث اور قابل اعتبار محبت ماں کی ہے۔‘‘

(نمرہ احمد کے ناول ’’سانس ساکن تھی‘‘ سے اقتباس)