مظفر وارثی

 

’’کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے‘‘ اور ’’میرا پیمبر عظیم تر ہے‘‘ جیسے لازوال حمدیہ اور نعتیہ کلام کے خالق مظفر الدین احمد صدیقی المعروف مظفر وارثی کا آج مورخہ20 دسمبر یوم پیدائش ہے۔ ان کا تعلق الحاج محمد شرف الدین احمد کے خاندان سے تھا جو کہ صوفی وارثی کے نام سے معروف تھے اسی نسبت سے مظفر الدین احمد نے بھی اپنا تخلص ’’وارثی‘‘ رکھا۔ مظفر وارثی موجودہ صدی کی چند گنی چنی آوازوں میں سے ایک اور عہد حاضر میں پاکستان کے نمایاں ترین شاعر اور نعت خواں تھے۔ مظفر وارثی 20 دسمبر 1933ء کو میرٹھ (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم میرٹھ کے ہائی اسکول سے حاصل کی، 1947 میں لاہور آکر میٹرک کیا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ملازم ہوگئے۔ آپ اردو شاعری کی تاریخ کا اہم ستون اور عہد حاضر میں اردو نعت کا انتہائی متعبر نام ہیں۔ مظفر وارثی نے اپنی شاعری کا آغاز غزلوں، نظموں اور فلمی گیتوں سے کیا، بعد ازاں انہوں نے خود کو حمدیہ اور نعتیہ کلام کے لئے مخصوص کرلیا، تاہم آپ نے ہر صنف شعر غزل، نظم، حمد، نعت و سلام، گیت، قطعات اور ہائیکو وغیرہ میں طبع آزمائی کی ہے۔ آپ کی شاعری اپنے منفرد اسلوب اور موضوعات کے تنوع کے باعث پیش منظر کے شاعروں کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے 20 سے زائد کتابیں تحریر کیں جن میں ’’برف کی ناؤ، باب حرم، لہجہ، نور ازل، الحمد، حصار، لہو کی ہریالی، ستاروں کی آب جو، کعبہ عشق، کھلے دریچے بند ہوا، دل سے در نبی تک، ظلم نہ سہنا، کمند، گئے دنوں کا سراغ اور آپ بیتی‘‘ شامل ہیں۔ اردو ادب کی تاریخ میں مظفر وارثی جتنے مستند اور معتبر نعت گو شاعر گردانے جاتے ہیں اس سے کہیں بڑے غزل گو شاعر ہیں۔ (کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا ...... زخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا) لتا منگیشکر اور جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی ایک غزل، چترا سنگھ اکثر مظفر وارثی کی غزلیں گاتی ہیں۔ پاکستانی گلوکار مسعود رانا نے سب سے زیادہ آپ کا کلام گایا، فلم ہمراہی کے لئے مظفر وارثی کے مشہور گیت مسعود رانا نے گائے۔
۔ کیا کہوں اے دنیا والو، کیا کہوں میں
۔ کرم کی اک نظر ہم پر .... یا رسول اللہ
۔ ہوگئی زندگی مجھے پیاری
۔ نقشہ تیری جدائی کا اب تک میری نظر میں ہے
۔ مجھے چھوڑ کر اکیلا ، کہیں دور جانے والے
۔ یاد کرتا ہے زمانہ انہی انسانوں کو
۔ پکارا ہے مدد کو بے کسوں نے، ہاتھ خالی ہے.... بچالو ڈوبنے سے اسے ..... یا رسول اللہ۔ یہ ایک نہ بھلایا جانے والا مشہور کلام ہے۔ اس کے علاوہ ’’کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے‘‘ مظفر وارثی کا لازوال کلام ہے۔ 1981 میں انہیں ریڈیو پاکستان کی جانب سے بہترین نعت خواں کا ایوارڈ دیا گیا۔ 1988 میں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی دیا گیا ۔
مظفر وارثی کو رعشے کا مرض تھا۔ کافی عرصہ علیل رہنے کے بعد 28 جنوری 2011ء کو 77 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔