ملکہ ترنم نورجہاں

 

آج مورخہ 23 دسمبر سُروں کی ملکہ، پاکستان کی نامور اداکارہ اور گلوکارہ ملکہ ترنم نورجہاں کی برسی ہے۔

 وہ 21 ستمبر 1926 کو محلہ کوٹ مراد خان، قصور میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام اللہ وسائی جبکہ نورجہاں فلمی نام تھا۔ ان کا گھرانہ موسیقی اور گانے بجانے سے وابستہ تھا اسی لئے ان کے گھر والوں نے انہیں بھی موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے استاد کے پاس بٹھادیا جبکہ نورجہاں ذاتی طور پر اداکاری کرنے کو بھی پسند کرتی تھیں۔ انہوں نے استاد بابا غلام محمد سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ انہیں کلاسیکی روایتی ہندوستانی موسیقی کی خصوصی طور پر تربیت دی گئی تھی۔ ان کو ٹھمری، دھروپد، خیال اور دیگر اصناف موسیقی پر چھوٹی عمر میں ہی عبور حاصل ہوگیا تھا۔ انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آٓغاز 1935 میں بطور چائلڈ اسٹار کلکتہ میں بننے والی فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی‘‘ سے کیا۔ چند مزید فلموں میں کام کرنے کے بعد 1938 میں وہ لاہور واپس آگئیں جہاں انہوں نے فلم ساز دل سکھ پنجولی اور ہدایت کار برکت مہرا کی فلم گل بکاؤلی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ فلم تھی جس سے بطور گلوکارہ بھی ان کی شہرت اور مقبولیت کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے فلم یملا جٹ اور چوہدری میں کام کیا۔ 1941 میں موسیقار غلام حیدر نے انہیں اپنی فلم خزانچی میں پلے بیک سنگر کے طور پر متعارف کروایا۔ 1941 میں ہی بمبئی میں بننے والی فلم خاندان ان کی زندگی کا ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اسی فلم کی تیاری کے دوران ہدایت کار شوکت حسین رضوی سے ان کی محبت پروان چڑھی اور دونوں نے شادی کرلی۔ قیام پاکستان سے پہلے ان کی دیگر معروف فلموں میں دوست، لال حویلی، بڑی ماں، نادان، نوکر، زینت، انمول گھڑی اور جگنو کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے فلم چن وے سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم کی ہدایت بھی انہوں نے دی تھی۔ بطور اداکارہ ان کی دیگر فلموں میں گلنار، دوپٹہ، پاٹے خان، لخت جگر، انتظار، نیند، کوئل، چھومنتر، انارکلی اور مرزا غالب کے نام شامل ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو گلوکاری تک محدود کرلیا۔ ایک ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 995 فلموں کے لئے نغمات ریکارڈ کروائے جن میں آخری فلم گبھرو پنجاب دا تھی جو 2000 میں ریلیز ہوئی۔

1965 کی جنگ میں انہوں نے ’’میریا ڈھول سپاہیا، اے وطن کے سجیلے جوانوں، ایہہ پترہٹاں تے نئیں وکدے، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ سمیت بے شمار ملی نغمے گا کر قوم اور فوج کے جوش و ولولہ میں اضافہ کیا۔

انہوں نے مجموعی طور پر دس ہزار سے زائد غزلیں اور گیت گائے جن میں فیض احمد فیض کی نظم ’’مجھ سے پہلی سے محبت میرے محبوب نہ مانگ‘‘ بے پناہ ہٹ ہوئی جس نے ملکہ ترنم کو کامیابیوں کے نئے سفر پر گامزن کردیا۔ نورجہاں نے سات دہائیوں تک لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ فیض کا کلام ہو، غزل ہو یا شوخ گانا، ہر سُر نورجہاں کے سامنے سرجھکاتا۔

انہیں شاندار پرفارمنس کے باعث صدارتی ایوارڈ، تمغہ امتیاز اور بعد ازاں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔

نورجہاں 23 دسمبر 2000  کو دنیا سے رخصت ہوئیں۔ وہ کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔