آج مورخہ 26 دسمبر اردو ادب کی تاریخ میں نہایت اہم دن ہے۔ آج اردو اور پنجابی کے مقبول شاعر منیر نیازی اور منفرد اسلوب کی شاعرہ پروین شاکر کی برسی ہے۔ ذیل میں ان دونوں شخصیات کا مختصر تعارف پیش کیا جارہا ہے۔

 

منیر نیازی

کج اونج وہ راہواں اوکھیاں سَن

کج گل وچ غم دا طوق وی سی

کج شہر دے لوک وی ظالم سَن

کج مینوں مرن دا شوق وی سی

ایسے کتنے ہی شعروں اور ان گنت نظموں اور غزلوں کے خالق اردو اور پنجابی کے مقبول شاعر منیر نیازی کی آج مورخہ 26 دسمبر برسی ہے۔

منیر نیازی 19 اپریل 1926 کو ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ جنگ عظیم کے دوران میں ہندوستانی بحریہ میں بھرتی ہوگئے لیکن جلد ہی ملازمت چھوڑ کر گھر واپس آگئے۔ برصغیر کی آزادی کے بعد لاہور آگئے۔ وہ کئی اخبارات و ریڈیو اور بعد میں ٹیلیویژن سے وابستہ رہے۔  انہیں بہت جدو جہد بھری زندگی گزارنی پڑی ۔

وہ بیک وقت شاعر،  ادیب اور صحافی تھے۔  وہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کرتے تھے۔  منیر نیازی نے جنگل سے وابستہ علامات کو اپنی شاعری میں خوبصورتی سے استعمال کیا۔ انہوں نے جدید انسان کے روحانی خوف اور نفسی کرب کے اظہار کے لیے چڑیل اورچیل ایسی علامات استعمال کیں۔منیر نیازی کی نظموں میں انسان کا دل جنگل کی تال پر دھرتا ہے اور ان کی مختصر نظموں کا یہ عالم ہے کہ گویا تلواروں کی آبداری نشتر میں بھر دی گئی ہو۔ ان کے اردو شاعری کے تیرہ، پنجابی کے تین اور انگریزی کے دو مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مجموعوں میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان شام، سفید دن کی ہوا، سیاہ شب کا سمندر، ماہ منیر، چھ رنگین دروازے، شفر دی رات، چار چپ چیزاں، رستہ دسن والے تارے، آغاز زمستان، ساعت سیار اور کلیات منیر شامل ہیں۔

منیر نیازی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ لیکن اُن کے یہاں احتجاج کی آواز بہت بلند ہے۔ اِس کے علاوہ اُن کی آواز اپنے ہم عصروں میں سب سے الگ سب سےجدا اور سب سے منفرد ہے جسے سینکڑوں صداﺅں کے درمیان بھی پہچاناجا سکتا ہے، کیونکہ اُن کی لفظیات سب سے جد ا ہیں ۔
منیر نیازی کی غزل روایت اور جدّت کے احساس سے مملو ہے۔ اُنھوں نے جہاں نئے موضوعات و اسالیب سے شاعری کو ہم کنار کیا وہیں فنّی سطح پر بھی تخلیقی قوت عطا کی۔ اُن کی غزل بیان و بدیع کے حسن سے مزین ہونے کی بنا پر ندرتِ فن، تازہ بیانی اور تازہ خیالی کی حامل ہے۔ منیر نیازی کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز اور اکادمی ادبیات پاکستان نے کمال فن ایوارڈ سے نوازا تھا۔

26 دسمبر 2006 کو لاہور میں اس البیلے شاعر کا انتقال ہوگیا۔


پروین شاکر

مرگئے بھی تو کہاں، لوگ بھُلا ہی دیں گے

لفظ مرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

آج مورخہ 26 دسمبر منفرد لہجے اور اسلوب کی شاعرہ پروین شاکر کی برسی ہے۔

محبت کی خوشبو کو شعروں میں سمونے والی شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ۔ ان کے والد سید ثاقب حسین خود بھی شاعر تھے اور شاکر تخلص کیا کرتے تھے، اس نسبت سے پروین شاکر اپنے نام کے ساتھ شاکر لکھتی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کے والد پاکستان ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہوئے۔ پروین شاکر نے انگریزی ادب میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کو اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ دوران تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ وہ استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔ 1986 میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ، سی بی آر اسلام آباد میں سیکریٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔ 1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991 میں ہاورڈ یونیوسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔ شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی کی سرپرستی حاصل رہی۔ اپنی منفرد شاعری کی کتاب ’’خوشبو‘‘ سے اندرون و بیرون ملک بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ انہیں اس کتاب پر آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بعد ازاں انہیں پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی ملا۔

پروین شاکر کی شاعری میں ایک نسل کی نمائندگی ہوتی ہے اور ان کی شاعری کا مرکزی نقطہ عورت رہی ہے۔

ان کے شعری مجموعوں میں ’’خوشبو، خود کلامی، صد برگ، انکار، ماہ تمام، مسکراہٹ، چڑیوں کی چہکار، بارش کی کن من اور کف آئینہ شامل ہیں۔

26 دسمبر 1994 کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جاملیں۔