• نظر بھر دیکھتا کوئی تو تم آنکھیں جھپا لیتے
    سماں اب یاد ہوگا کب تمھیں وہ خورد سالی کا
    میر
  • اک نام کی اڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے
    اک بستی آنکھیں ملتی ہے، اک شہر نظر میں رہتا ہے
    امجد اسلام امجد
  • چار سو دیکھوں ہوں جوں آئنہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ
    میری نظروں سے جو اوجھل وہ پری وش ہے مرا
    جرأت
  • دیکھتے ہی اس کا ہیبت سے گیا سینہ دھڑک
    مند گئیں آنکھیں وہیں اور کھا گئیں پلکیں جھپک
    نظیر
  • اوروں سے تو بے باک سر بزم لڑا کیں
    عاشق سے ہوئیں چار تو شرما گئیں آنکھیں
    امیر
  • دیکھیں ہیں راہ کس کی یارب کہ اختروں کی
    رہتی ہیں باز آنکھیں چندیں ہزار ہر شب
    میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61