• شب گئیں آنکھیں جھپک اس برق وش کو دیکھکر
    آگیا پردے سے باہر اس پھبن سے دفعتاً
    معروف
  • نظر بھر دیکھتا کوئی تو تم آنکھیں جھپا لیتے
    سماں اب یاد ہوگا کب تمھیں وہ خورد سالی کا
    میر
  • تُو پکارے تو چمک اُٹھتی ہیں آنکھیں میری
    تیری صورت بھی ہے شامل تری آواز کے ساتھ
    احمد ‌ندیم ‌قاسمی
  • ترے دل میں ہے مصری، چاہ یوسف بیگ بھیا کی
    نہ کیوں آنکھیں چرائے مجھ سے مرتا تجھ میں پانی ہے
    جان صاحب
  • آنکھیں بچھائیں ماں نے جو تم گھٹینوں چلے
    تلووں سے اس نے دیدہ حق میں سدا ملے
    انیس
  • ضد دلاتا ہے عبث آنکھیں چُھپا کر مجھ کو یار
    سوزِ دل سے جسمِ خاکی توتیا ہوجائے گا
    آتش
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61