• لڑ گئیں آنکھیں اٹھائی دل نے چوٹ
    یہ تماشائی عبث گھائل ہوا
    میر
  • پردہ کیا ان کی جفاؤں کا کہیں فاش ہوا
    آج جھیپی ہوئی ہیں اوستم ایجاد آنکھیں
    بیخود(ہادی علی)
  • ماں کی آنکھیں چراغ تھیں جس میں
    میرے ہمراہ وہ دعا بھی تھی
    امجد اسلام امجد
  • سو جگہ اُس کی آنکھیں پڑتی ہیں
    جیسے مستِ شراب ہیں دونوں
    میر تقی میر
  • آنکھیں مری کرے جو منور جمال یار
    گھی کے چراغ طور کے اوپر جلاؤں میں
    آتش
  • جان دیتا ہے چشم و ابرو پر
    ہوگئیں آنکھیں تک تلے اوپر
    شعور
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61